اسلام آباد:
بھارت نے 12 جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی کی ہے جو کہ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کی ایک اہم رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب نئی دہلی نے امن کے دوران جوہری ہتھیاروں کو عملی طور پر تعینات کیا ہے، جیسا کہ اس ہفتے جاری ہونے والے SIPRI سالنامہ 2026 میں ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بھارت کے کل جوہری ذخائر کی تعداد جنوری 2026 تک تقریباً 190 ہتھیاروں تک پہنچ گئی ہے، جو کہ پچھلے سال 180 تھی۔ ان میں سے 12 ہتھیار اب تعینات سمجھے جا رہے ہیں، جو ممکنہ طور پر ایک آبدوز پر موجود میزائلوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جو کبھی کبھار روک تھام کے لئے گشت کرتے ہیں۔
یہ تبدیلی اس وقت آئی ہے جب بھارت اپنی جوہری ٹرائیڈ کو جدید بنانے میں مصروف ہے، جس میں زمین، ہوا اور سمندر پر مبنی ہتھیار شامل ہیں۔ SIPRI کا کہنا ہے کہ کینسٹرائزڈ میزائل، جو جوڑے ہوئے ہتھیاروں کے ساتھ منتقل کیے جا سکتے ہیں، نے اس عملی تبدیلی کو ممکن بنایا ہے۔
پاکستانی حکام اور تجزیہ کار اس ترقی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ علاقائی اسٹریٹجک مقابلہ جاری ہے۔ یہ تعیناتی بھارت کے طویل مدتی طرز عمل کے خاتمے کی نشاندہی کرتی ہے، جس میں امن کے دوران ہتھیاروں کو ترسیل کے نظام سے الگ رکھا جاتا تھا۔
**سرکاری بیانات** ایک سینئر پاکستانی دفاعی تجزیہ کار نے SIPRI کی رپورٹ کو بھارت کی بڑھتی ہوئی جوہری پوزیشن کی تصدیق قرار دیا۔ “یہ تعیناتی بھارت کے روایتی کم از کم قابل اعتبار روک تھام کے طریقے سے ایک زیادہ فعال عملی تیاری کی طرف اشارہ کرتی ہے،” تجزیہ کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا۔
بھارتی حکام نے فوری طور پر SIPRI کی اس تشخیص پر کوئی عوامی تبصرہ نہیں کیا۔ نئی دہلی نے پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی برقرار رکھی ہے جبکہ قابل اعتبار کم از کم روک تھام پر زور دیا ہے۔
**اہم اعداد و شمار** SIPRI کے تخمینے کے مطابق، پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد تقریباً 170 ہے، جو کہ نسبتاً مستحکم ہے۔ بھارت کا ذخیرہ اب پاکستان سے تقریباً 20 ہتھیاروں سے زیادہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت نے اپنی انوینٹری میں معمولی اضافہ کیا ہے جبکہ نئے ترسیل کے نظام پر توجہ دی ہے۔ ان میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور آبدوز سے لانچ ہونے کی صلاحیتیں شامل ہیں۔ آریہنت کلاس کے جوہری طاقتور بیلسٹک میزائل آبدوزیں (SSBNs) اس ٹرائیڈ کا ایک اہم حصہ ہیں۔
دنیا بھر میں نو جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک تقریباً 12,241 جوہری ہتھیاروں کے مالک ہیں، جن میں سے تقریباً 9,614 ممکنہ طور پر عملی طور پر دستیاب ہیں۔ SIPRI کے اعداد و شمار بڑے طاقتوں، بشمول چین، روس اور امریکہ کے درمیان جدیدیت کے ایک وسیع تر رجحان کو اجاگر کرتے ہیں۔
بھارت کا جوہری پروگرام 1974 کے پرامن جوہری دھماکے سے شروع ہوتا ہے، جس کے بعد 1998 میں واضح تجربات کیے گئے۔ اس کے بعد سے، اس نے مختلف ترسیل کے پلیٹ فارم تیار کیے ہیں، جن میں اگنی سیریز کے بیلسٹک میزائل شامل ہیں، جن کی رینج کچھ مختلف قسموں کے لیے 5,000 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔
**پس منظر** یہ ترقی چین کے ساتھ حقیقی کنٹرول لائن پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پاکستان کے ساتھ تعلقات میں مستقل چیلنجز کے پس منظر میں ہو رہی ہے۔ بھارت نے ہندوستانی سمندر کے علاقے میں اپنے دوسرے حملے کے اختیارات کو محفوظ کرنے کے لیے بحری جوہری صلاحیتوں کو ترجیح دی ہے۔
پاکستان ایک مکمل سپیکٹرم روک تھام کی پالیسی پر قائم ہے، جس میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار شامل ہیں۔
