Follow
WhatsApp

ایران نے اسرائیل پر براہ راست میزائل حملہ کیا

ایران نے اسرائیل پر براہ راست میزائل حملہ کیا

ایران نے اسرائیل پر میزائل داغے، کشیدگی میں اضافہ

ایران نے اسرائیل پر براہ راست میزائل حملہ کیا

اسلام آباد: ایران نے 7 جون کو اسرائیل پر متعدد بیلسٹک میزائل داغے، جو کہ اس کشیدگی کے مرحلے میں تہران کی جانب سے اسرائیلی سرزمین پر پہلا براہ راست حملہ ہے، بغیر کسی فوری حملے کے جو ایرانی سرزمین پر ہوا ہو۔

یہ حملہ چند گھنٹوں بعد ہوا جب اسرائیلی افواج نے جنوبی بیروت پر حملہ کیا، جو لبنان میں ایک نازک جنگ بندی کی خلاف ورزی تھی۔ ایرانی حکام نے اس میزائل حملے کو بیروت کے آپریشن کا جواب قرار دیا۔

اسرائیلی فضائی دفاع نے زیادہ تر میزائلوں کو روک لیا، جبکہ رپورٹس کے مطابق تقریباً 10 سے 11 بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ ابتدائی لہر میں اسرائیل میں کوئی بڑی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

**سرکاری بیانات** ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے اس لانچ کی تصدیق کی، جس میں اسرائیلی فوجی مقامات بشمول ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تہران نے اس کارروائی کو اپنے علاقائی اتحادیوں کی حفاظت کے لیے ایک متوازن جواب کے طور پر پیش کیا۔

اسرائیلی حکام نے بتایا کہ اگلے دن ایران پر کیے گئے حملے نے مغربی اور وسطی علاقوں میں فوجی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جس میں میزائل لانچنگ مقامات اور متعلقہ سہولیات شامل تھیں۔ اس آپریشن کو محدود دائرہ کار میں بیان کیا گیا۔

**اہم اعداد و شمار** اسرائیلی تشخیص کے مطابق ایران نے ابتدائی حملے میں تقریباً 10-11 بیلسٹک میزائل داغے۔ اسرائیل کے کثیر سطحی دفاعی نظام، بشمول Iron Dome اور Arrow، نے اعلیٰ روک تھام کی شرح حاصل کی۔

یہ تبادلہ 2026 کے ایران کے تنازعہ کے بعد ہوا جو 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ساتھ شروع ہوا۔ پچھلے مراحل میں ایران نے کئی دنوں تک درجنوں میزائل داغ کر جواب دیا۔

وسیع تر تنازعہ میں جانی نقصان کی تعداد اہم رہی۔ پچھلے ایرانی حملوں سے اسرائیلی رپورٹس میں بتایا گیا کہ فروری سے اب تک ملک بھر میں درجنوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔

تازہ ترین اسرائیلی جوابی حملوں نے کئی ایرانی شہروں میں دھماکے کیے لیکن توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بڑے نقصان سے بچانے کے لیے یہ محدود رکھے گئے۔

**پس منظر** یہ واقعہ ایران کی حالیہ حکمت عملی سے ہٹ کر ہے جس میں لبنان اور دیگر جگہوں پر بنیادی طور پر پراکسی فورسز کا استعمال کیا جاتا تھا۔ ایرانی سرزمین سے براہ راست میزائل داغنے کا مطلب ہے کہ یہ ایک نئی رکاوٹ کی حکمت عملی کی علامت ہے۔

کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب پہلے کی بات چیت ناکام ہوگئی۔ ایک مشروط جنگ بندی اپریل کے اوائل میں عمل میں آئی، جس کے بعد فروری کے آخر میں امریکی اور اسرائیلی کارروائیاں ہوئی تھیں جن کا مقصد ایرانی میزائل اور جوہری سے متعلق مقامات تھے۔

ایران نے اس مخصوص تبادلے میں امریکی اڈوں یا خلیجی ریاستوں پر براہ راست حملہ نہ کرنے کی پالیسی برقرار رکھی ہے، صرف اسرائیل پر توجہ مرکوز کی ہے، حالانکہ اس کے پاس وسیع تر علاقائی صلاحیتیں ہیں۔

**ردعمل اور اثرات** امریکہ نے اس صورتحال کی قریب سے نگرانی کی، اور اس کی افواج نے کچھ ایرانی میزائلوں کو روکنے میں مدد فراہم کی جو علاقائی اتحادیوں کی طرف تھے۔ ہارموز کی آبنائے میں خلل کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں۔

علاقائی ریاستوں نے ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔ پاکستان، جو ماضی میں ثالثی کی کوششوں میں شامل رہا ہے، اپنے اسٹریٹجک مفادات کے پیش نظر ترقیات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

ایران میں عوامی اور سرکاری ردعمل نے اس واقعے کی شدت کو اجاگر کیا۔