اسلام آباد:]
اسلام آباد:
بحرین کے قومی گارڈ کے کمانڈر اور بحرین کے بادشاہ کے بھائی، جناب شیخ محمد بن عیسیٰ آل خلیفہ، ایک سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے اور پاکستان ایئر فورس کی قیادت کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی۔
آنے والے معزز مہمان نے پاکستان ایئر فورس کے چیف آف ایئر اسٹاف سے ملاقات کی تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تعاون کو بڑھانے کے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔
دونوں جانب سے باہمی دلچسپی کے مختلف مسائل کا جائزہ لیا گیا، جن میں تربیت، آپریشنل تیاری، اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں مشترکہ اقدامات شامل تھے۔
یہ ملاقات پاکستان اور بحرین کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری دفاعی تعلقات کے پس منظر میں ہوئی ہے۔ پاکستان نے تاریخی طور پر بحرین کی فوجی ترقی کی حمایت کی ہے، جس میں خلیجی ریاست کی مسلح افواج میں تربیت اور صلاحیت کی تعمیر کے لیے اہم پاکستانی تعاون شامل ہے۔
**سرکاری بیانات** مذاکرات کے دوران دونوں وفود نے باہمی دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ بحرین کے قومی گارڈ کے کمانڈر نے پاکستان ایئر فورس کی مہارت کو مختلف شعبوں میں، خاص طور پر خلا، سائبر، اور الیکٹرانک جنگ کے شعبوں میں استعمال کرنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔
پاکستان ایئر فورس کے اہلکاروں نے جاری تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا اور باہمی تعامل کو بڑھانے کے لیے مزید شمولیت کا خیرمقدم کیا۔ بات چیت میں مشترکہ تربیتی پروگراموں اور ہوا بازی کی صنعت میں تعاون کے ممکنہ راستوں پر بھی گفتگو ہوئی۔
جنرل ساہر شمشاد مرزا، پاکستان کی مشترکہ چیف آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین، نے متعلقہ فوجی سہولیات پر اعلیٰ بحرینی وفد کا استقبال کیا، جس سے پاکستان کی مسلح افواج کی اعلیٰ سطح پر ان تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
**باہمی دفاعی تعاون کے اہم پہلو** پاکستان اور بحرین کے دفاعی تعلقات باقاعدہ اعلیٰ سطح کے تبادلوں اور عملی تعاون پر مبنی ہیں۔ بحرین نے اکثر پاکستانی فوجی اہلکاروں کو تربیت کے لیے مدعو کیا ہے، جبکہ پاکستانی مہارت نے بحرین کی فضائی اور بحری صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق، بحرین کی فضائیہ کے تقریباً 18 فیصد اہلکاروں میں تاریخی طور پر اہم کردار ادا کرنے والے پاکستانی افسر شامل رہے ہیں۔ پاکستان نے بحرین کی بحری افواج کے لیے بنیادی ڈھانچے کے قیام میں بھی مدد فراہم کی ہے۔
باہمی تجارت، اگرچہ معمولی ہے، لیکن خدمات، نقل و حمل، اور مالی شعبوں میں مستقل ترقی دکھا رہی ہے۔ دفاعی تعلقات اس کا بنیادی ستون ہیں، اور دونوں ممالک تربیت، لاجسٹکس، اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں بڑھتی ہوئی تعاون کی تلاش میں ہیں۔
پاکستان ایئر فورس ایک جدید بیڑے کے ساتھ کام کر رہی ہے جس میں JF-17 Thunder ملٹی رول فائٹرز، F-16 کی مختلف اقسام، اور جدید نگرانی کے نظام شامل ہیں۔ مختلف آپریشنل ماحول میں اس کا تجربہ اسے علاقائی اتحادیوں کے لیے ایک قیمتی شراکت دار بناتا ہے جو موجودہ خطرات کے خلاف تیاری کو بڑھانا چاہتے ہیں۔
**پس منظر اور علاقائی سیاق و سباق** پاکستان اور بحرین کے درمیان سفارتی تعلقات 1971 میں قائم ہوئے۔ دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو فروغ دیا ہے۔
