اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے منگل کو دعویٰ کیا کہ پارٹی کے بانی عمران خان کو اڈیالہ جیل میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی ایک آنکھ کی مکمل بینائی ختم ہو گئی ہے۔
راجہ نے یہ دعوے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی صحت کے ساتھ، جیل کی صورتحال اور مناسب طبی دیکھ بھال کی کمی کی وجہ سے سنگین خطرات میں ہے۔
PTI کے رہنما نے بتایا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی شدید متاثر ہو چکی ہے۔ پارٹی کے ذرائع کے مطابق متاثرہ آنکھ میں 85 فیصد تک بینائی کا نقصان ہونے کی اطلاعات ہیں، جس میں درد نومبر کے پچھلے سال سے شروع ہوا اور دسمبر تک مکمل نقصان کی طرف بڑھ گیا۔
راجہ نے دعویٰ کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود، جیل کی انتظامیہ نے صرف بنیادی آنکھ کے قطرے فراہم کیے، جبکہ خصوصی علاج یا ہسپتال کی حوالگی نہیں کی۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ملاقاتوں اور طبی رسائی کے حوالے سے عدالت کے احکامات کو مکمل طور پر نافذ نہیں کیا گیا۔
راجہ نے کہا، “عمران خان اور بشریٰ بی بی سیاسی قیدی ہیں جن کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔” انہوں نے ان کی صورتحال کا موازنہ ایک دوسرے سیاسی قیدی سے کیا جو کہ جیل میں مکمل سہولیات سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔
PTI کے سیکرٹری جنرل نے بتایا کہ پارٹی نے سپریم کورٹ میں متعدد درخواستیں دائر کی ہیں لیکن سماعتیں ابھی تک زیر التواء ہیں۔ “ہم نے تمام قانونی راستے اختیار کر لیے ہیں اور اب اپنا کیس عوام کے سامنے پیش کر رہے ہیں،” انہوں نے مزید کہا۔
عمران خان اگست 2023 سے حراست میں ہیں، اور ان کے خلاف متعدد قانونی مقدمات ہیں۔ PTI کے رہنما ان کی قید کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں، اور ان کے خلاف 300 سے زائد مقدمات درج ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
بشریٰ بی بی، جو کہ خود بھی قید میں ہیں، اپریل 2026 میں ریٹینل ڈٹچمنٹ کے لیے ایمرجنسی آنکھ کی سرجری کروا چکی ہیں، پارٹی کے ذرائع کے مطابق۔ سرجری کے بعد کی دیکھ بھال اور دونوں کے لیے مسلسل تنہائی کی قید کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں۔
جیل کی انتظامیہ یا وفاقی حکومت کی جانب سے مخصوص الزامات پر فوری طور پر کوئی سرکاری جواب دستیاب نہیں تھا۔ وزارت داخلہ اور جیل انتظامیہ نے پہلے بھی بدسلوکی کے الزامات کی تردید کی ہے، اور کہا ہے کہ تمام قیدیوں کو قواعد کے مطابق معیاری طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے حقوق کے حوالے سے سپریم کورٹ کے احکامات، بشمول بروقت طبی رسائی اور خاندانی ملاقاتیں، کئی اہم کیسز میں جاری کیے گئے ہیں۔ پاکستان کے جیل نظام میں عملدرآمد کے مسائل ایک بار پھر سامنے آ رہے ہیں۔
پریس کانفرنس کے فوراً بعد مارکیٹ اور عوامی ردعمل خاموش رہا، حالانکہ PTI کے کارکنوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ پارٹی کے حامیوں نے فوری عدالتی مداخلت اور آزاد طبی معائنہ کا مطالبہ کیا۔
**وسیع تر اثرات**
تازہ ترین دعوے حراست کی حالتوں اور سیاسی مقدمات کی عدالتی نگرانی کے بارے میں جاری مباحثوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بروقت شفاف طبی رپورٹس کے ذریعے مسئلے کا حل عوامی عدم اعتماد کو کم کر سکتا ہے۔
PTI نے اشارہ دیا ہے کہ وہ قانونی کارروائی جاری رکھے گی۔
