اسلام آباد: صدر شی جن پنگ نے پیر کو بیجنگ میں پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جس دوران انہوں نے یہ بات دوہرائی کہ چین اپنی علاقائی سفارت کاری میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دیتا رہے گا، چاہے عالمی حالات کیسے بھی ہوں۔
شی نے کہا کہ چین پاکستان کی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی پختہ حمایت کرتا ہے۔ دونوں رہنماوں نے نئے دور میں چین-پاکستان کمیونٹی کی تعمیر کو مزید تیز کرنے پر اتفاق کیا، جسے علاقائی تعاون کے لیے ایک ماڈل کے طور پر پیش کیا جائے گا۔
یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان 75ویں سالگرہ کے موقع پر ہوئی، جو 1951 میں قائم ہوئی تھی۔ وزیراعظم شریف کا چار روزہ دورہ اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں پر مشتمل ہے، جس کا مقصد چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے دوسرے مرحلے کے تحت تعاون کو آگے بڑھانا ہے۔
چینی اور پاکستانی عہدیداروں نے اس بات چیت کو جامع قرار دیا، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، زراعت، سائنس اور ٹیکنالوجی، اور عوامی تبادلوں پر بات چیت ہوئی۔
**سرکاری بیانات** صدر شی نے شراکت داری کی “ہر موسم” نوعیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ چین-پاکستان تعلقات چین کی ہمسایہ ممالک کی سفارت کاری میں ایک ترجیح ہیں۔ وزیراعظم شریف نے پاکستان کی جانب سے اسٹریٹجک تعاون کی شراکت داری کو گہرا کرنے کا عزم ظاہر کیا اور اہم شعبوں میں چینی سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
وزیراعظم آفس نے کہا کہ یہ دورہ حالیہ معاہدوں کی بنیاد پر ہے جو ہانگژو کے دورے کے دوران طے پائے، جہاں پاکستان نے 1.22 ارب ڈالر کے معاہدے حاصل کیے۔
**اہم اقتصادی اعداد و شمار** چین اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت 2024 میں تقریباً 23.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو سال بہ سال 11.1 فیصد کا اضافہ ہے۔ چین کی پاکستان کو برآمدات 20.2 ارب ڈالر تھیں، جبکہ پاکستان کی چین کو برآمدات تقریباً 2.9 ارب ڈالر تھیں۔
CPEC کے تحت پاکستان میں چینی سرمایہ کاری اہم رہی ہے، جس کی ابتدائی قیمت 2015 میں 46 ارب ڈالر تھی اور بعد میں اسے بڑھایا گیا۔ حالیہ تخمینوں کے مطابق، چینی سرمایہ کاری کے مجموعی وعدے بنیادی ڈھانچے، توانائی، اور صنعتی منصوبوں میں 60-65 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔
CPEC کے تحت 38 سے زائد بڑے منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، جو پاکستان کی بجلی کی پیداوار کی صلاحیت اور سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے میں نمایاں اضافہ کر رہے ہیں۔ CPEC کے تحت توانائی کے منصوبوں نے قومی گرڈ میں ہزاروں میگاواٹ کا اضافہ کیا، جو بجلی کی دائمی کمی کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوا۔
حالیہ سالوں کی پہلی ششماہی میں، دوطرفہ تجارت کے حجم میں کچھ عرصوں میں تقریباً 15 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جو عارضی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 14 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
**پس منظر** چین-پاکستان کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں، جو فوجی اور سفارتی تعاون سے شروع ہو کر بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت مضبوط اقتصادی شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ 2015 میں شروع ہونے والا CPEC چین کے سنکیانگ علاقے کو پاکستان کے گوادر بندرگاہ سے جوڑتا ہے، جس کا مقصد علاقائی رابطے اور اقتصادی انضمام کو بڑھانا ہے۔
پاکستان اس راہداری کو صنعتی ترقی، ملازمتوں کی تخلیق، اور برآمدات کے بڑھنے کے لیے بہت اہم سمجھتا ہے۔ چین اسے ایک اسٹریٹجک رابطہ کے طور پر دیکھتا ہے جو انحصار کو کم کرتا ہے۔
