Follow
WhatsApp

چین کا ⁦J-35⁩ طیارہ چھ جدید میزائل لے جانے کی تصدیق

چین کا ⁦J-35⁩ طیارہ چھ جدید میزائل لے جانے کی تصدیق

چین کا ⁦J-35⁩ اپ گریڈ ہوا، فضائی جنگ کی صلاحیتیں بڑھیں۔

چین کا ⁦J-35⁩ طیارہ چھ جدید میزائل لے جانے کی تصدیق

اسلام آباد: چین کے J-35 لڑاکا طیارے کی ہتھیاروں کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

چینی ریاستی میڈیا نے بتایا ہے کہ J-35 کے اندرونی ہتھیاروں کے خانے میں چھ میزائل رکھے جا سکتے ہیں۔

یہ پہلے کی رپورٹ کردہ صلاحیت سے چار میزائل تک بڑھ گیا ہے۔

J-35، جو کہ چین کے ہتھیاروں میں ایک جدید اور خفیہ طیارہ ہے، اب جدید ہتھیاروں کی موجودگی کی تصدیق کر چکا ہے۔

ان میں PL-15 اور PL-16 میزائل شامل ہیں، جو اپنی بصری حد سے باہر کی صلاحیتوں کے لیے جانے جاتے ہیں۔

یہ لڑاکا طیارہ اگلی نسل کے CM-98 ایئر لانچڈ کروز میزائل (ALCM) کو بھی لے جا سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، CM-98 کی رینج 300 کلومیٹر ہے، حالانکہ کچھ تخمینے یہ بتاتے ہیں کہ یہ 300 سے 500 کلومیٹر کے درمیان ہو سکتی ہے۔

یہ CM-98 کو سب سے زیادہ خفیہ ALCMs میں شامل کرتا ہے، جو Storm Shadow اور امریکی JASSM کا مقابلہ کرتا ہے۔

چین کی فوج کا دعویٰ ہے کہ CM-98 کا ڈیزائن کمپیکٹ ہے، جو J-35 کے اندرونی ٹرانسپورٹ کے لیے مثالی ہے۔

J-35 کی بہتر میزائل کی صلاحیت چین کی فضائی جنگ کی تیاری کو بڑھانے کے لیے ایک اسٹریٹجک اقدام ہے۔

فوجی تجزیہ کار اس ترقی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ یہ علاقائی طاقت کے توازن پر کس طرح اثر انداز ہو سکتی ہے۔

جبکہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے، یہ اپ گریڈ چین کی فوجی ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کے عزم کو اجاگر کرتا ہے۔

J-35 کے ڈیزائن میں یہ تبدیلی چین کے دفاعی شعبے میں جدت کی ایک بڑی لہر کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

چین کی فوجی ترقی میں جارحانہ موقف جغرافیائی میدانوں میں طاقت کا اظہار کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔

جیسے جیسے عالمی منظر نامے میں تناؤ بڑھتا ہے، J-35 کی صلاحیتیں مستقبل کی فوجی مشغولیتوں پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہیں۔

چینی ریاستی میڈیا کی جانب سے ان بہتریوں کا اعتراف قابل غور ہے۔

یہ ایک ترقی پذیر کہانی ہے، اور J-35 کی عملی صلاحیتوں کے بارے میں مزید معلومات سامنے آتی رہیں گی۔

بین الاقوامی برادری اس بات پر توجہ دے رہی ہے کہ ایسے ترقیات علاقائی سلامتی کے مسائل پر کس طرح اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

ان اپ گریڈز کے ساتھ، J-35 جدید فضائی جنگ میں ایک طاقتور کھلاڑی کے طور پر خود کو پیش کرتا ہے۔

یہ ترقی سوالات کو جنم دیتی ہے کہ دوسرے ممالک چین کی بڑھتی ہوئی فوجی صلاحیتوں کا جواب کیسے دیں گے۔