Follow
WhatsApp

کراچی حملے نے افغان-⁦RAW-TTP⁩ اتحاد کے الزامات کو جنم دیا

کراچی حملے نے افغان-⁦RAW-TTP⁩ اتحاد کے الزامات کو جنم دیا

کراچی حملے میں افغان دہشت گردوں کا تعلق سامنے آیا۔

کراچی حملے نے افغان-⁦RAW-TTP⁩ اتحاد کے الزامات کو جنم دیا

اسلام آباد: کراچی میں حالیہ حملے نے افغان دہشت گردوں اور غیر ملکی قوتوں کے ساتھ ممکنہ تعلقات کو بے نقاب کر دیا ہے۔

ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ مارے جانے والے دہشت گردوں میں سے ایک افغان شہری تھا۔

حکام نے مرحوم کے پاس ایک افغان سم کارڈ بھی دریافت کیا۔

سیکیورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ اس میں Research and Analysis Wing (RAW) اور دہشت گرد گروپ TTP اور TTH کا بھی ہاتھ ہو سکتا ہے۔

قابل اعتبار ذرائع کے مطابق، یہ منصوبہ افغانستان سے ترتیب دیا گیا تھا۔

مبینہ نیٹ ورک کا انکشاف علاقائی استحکام اور سلامتی کے حوالے سے خدشات کو بڑھاتا ہے۔

سیکیورٹی تجزیہ کاروں کو خدشہ ہے کہ یہ علاقائی شدت پسندوں کے درمیان ایک پیچیدہ اتحاد کی نشاندہی کرتا ہے۔

افغان طالبان کی سرگرمیاں حبیب اللہ اخوندزادہ کی قیادت میں ان خدشات کو مزید بڑھاتی ہیں۔

مقامی ذرائع نے رپورٹ کیا ہے کہ کراچی کے ہدفی حملے میں کئی بے گناہ شہری زخمی ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی برادری کی خاموشی پر بڑھتی ہوئی مایوسی پائی جاتی ہے۔

ماہرین نے مشترکہ علاقائی سیکیورٹی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیاں اس ابھرتے ہوئے خطرے کی تحقیقات کو تیز کر رہی ہیں۔

یہ حملہ افغانستان-پاکستان تعلقات میں جاری کشیدگی اور پیچیدگیوں کو اجاگر کرتا ہے۔

حکام سرحد پار اثرات کی نگرانی کر رہے ہیں جو سیکیورٹی چیلنجز کو بڑھا سکتے ہیں۔

داخلی اور بین الاقوامی ردعمل سیکیورٹی پروٹوکولز کی ترقی کو متاثر کرے گا۔

عالمی برادری کی اسٹریٹجک حمایت علاقائی امن کی کوششوں کے لیے ناگزیر ہے۔

یہ ایک ترقی پذیر کہانی ہے۔