اسلام آباد: پاکستان آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران کی طرف روانہ ہیں، جیسا کہ العربیہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے۔ یہ دورہ اسلام آباد کی جاری سفارتی کوششوں کا حصہ ہے جو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے ہے۔
ایرانی ریاستی میڈیا نے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ منیر جمعرات کو ایرانی دارالحکومت میں مشاورت کریں گے۔ پاکستانی حکام نے سفر کے شیڈول کی سرکاری تصدیق نہیں کی، لیکن یہ اقدام اسلام آباد کے علاقائی کشیدگی کم کرنے کے فعال کردار کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
یہ پیشرفت 2026 کے ایران تنازع کے بعد رک گئی امن بات چیت کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوششوں کے درمیان سامنے آئی ہے۔ پاکستان نے خود کو ایک غیر جانبدار سہولت کار کے طور پر پیش کیا ہے، جو ایران کے ساتھ اپنے 900 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد اور دونوں طرف کے ساتھ دیرینہ تعلقات کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔
فیلڈ مارشل منیر، جو کہ چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہیں، نے بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں کے درمیان روانگی کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سفر تہران اور واشنگٹن کے درمیان غیر براہ راست مذاکرات کو آگے بڑھانے پر مرکوز ہے، جس میں جنگ بندی کی شرائط، پابندیوں میں نرمی، اور خلیج کی سیکیورٹی شامل ہیں۔
**سرکاری پس منظر** پاکستان نے اسلام آباد میں پہلے بھی بات چیت کے دور کی میزبانی کی ہے۔ پہلا دور اپریل 2026 میں ہوا، جس میں پاکستانی ثالثوں کے ذریعے غیر براہ راست تبادلے شامل تھے۔ پہلے ایک نازک جنگ بندی حاصل کی گئی تھی لیکن اہم مسائل حل نہ ہونے کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے۔
ایرانی میڈیا، بشمول ISNA، نے اس دورے کو جاری مشاورت کا حصہ قرار دیا۔ العربیہ کے ذرائع نے سفر کی ابتدائی رپورٹس کا ذکر کیا، جبکہ روئٹرز نے ایرانی ایجنسی کی اپ ڈیٹس کا حوالہ دیا جس میں آرمی چیف کی مصروفیت کی تصدیق کی گئی۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمانوں نے بار بار اسلام آباد کے علاقائی استحکام کے عزم پر زور دیا ہے۔ “پاکستان معنی خیز مذاکرات کی سہولت کے لیے تیار ہے،” حکام نے حالیہ بریفنگز میں کہا۔
**اہم سفارتی پس منظر** 2026 کا ایران جنگ فروری کے آخر میں فضائی حملوں کے بعد شروع ہوا۔ پاکستان نے سرکاری غیر جانبداری اختیار کی، دونوں طرف کے حملوں کی مذمت کی جبکہ شٹل ڈپلومیسی میں مشغول رہا۔ پچھلے دو سالوں میں پاکستان اور ایران کے درمیان 25 اعلیٰ سطحی وفود کا تبادلہ ہوا ہے، جس کے ساتھ اقتصادی اور سیکیورٹی شعبوں میں 25 معاہدے بھی شامل ہیں۔
پاکستان اور ایران کے درمیان دو طرفہ تجارت سالانہ تقریباً 2-3 ارب ڈالر ہے، جس میں توانائی تعاون میں اضافے کی صلاحیت موجود ہے۔ ایران-پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ، جو طویل عرصے سے مؤخر ہے، کئی ارب ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری کی حامل ایک اسٹریٹجک ترجیح ہے۔
فیلڈ مارشل منیر، جو 1968 میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے، پہلے انٹر سروسز انٹیلی جنس (ISI) اور ملٹری انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہیں 2025 میں فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی، اور وہ ایوب خان کے بعد اس عہدے پر فائز ہونے والے دوسرے پاکستانی ہیں۔ ان کا کردار خارجہ پالیسی کے معاملات میں اثر و رسوخ کو بڑھاتا ہے۔
**علاقائی اثرات** یہ ثالثی توانائی کی بہاؤ میں رکاوٹوں اور مارکیٹ کی بے یقینی کے پس منظر میں ہو رہی ہے۔ تنازع کے آغاز سے تیل کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ آیا ہے، جس نے پاکستان کے درآمدی بل پر اثر ڈالا ہے، جو کہ توانائی کی ضروریات کے لیے سالانہ 15 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔
پاکستان کی معیشت، جس کا GDP بڑھ رہا ہے، عالمی سطح پر چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔
