اسلام آباد:
برطانوی پاکستانی رکنِ ایوان، لارڈ قربان حسین نے برطانیہ کے ایوانِ بالا میں ایک اجلاس کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں نے ان تناؤ کو کم کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا جو وسیع تر علاقائی استحکام کے لیے خطرہ بن چکا تھا۔
برطانوی پارلیمنٹ نے مشرق وسطیٰ میں مزید تنازعے کو روکنے کے لیے پاکستان کی شراکت پر شکریہ ادا کیا۔
لارڈ حسین، جو کشمیری نسل کے زندگی بھر کے رکن ہیں، نے ایوان میں حالیہ سفارتی پیش رفت اور جاری جنوبی ایشیائی سیکیورٹی چیلنجز پر بات کی۔ انہوں نے کشمیر کے مسئلے پر بین الاقوامی شمولیت کی ضرورت پر زور دیا تاکہ کنٹرول لائن پر ممکنہ تباہی سے بچا جا سکے۔
پاکستان کے وزارت خارجہ نے اس بیان کو اسلام آباد کے عالمی امن کی کوششوں میں تعمیری کردار کے طور پر خوش آمدید کہا۔ حکام نے بتایا کہ پاکستان نے مختلف تنازعہ والے علاقوں میں بات چیت اور تناؤ کم کرنے کے لیے مسلسل وکالت کی ہے۔
**سرکاری بیانات** اپنے خطاب میں، لارڈ قربان حسین نے ساتھی ارکان کو بتایا کہ پاکستان کے سفارتی چینلز نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات کو ختم کرنے میں مدد فراہم کی، جس کے نتیجے میں 10 مئی 2025 کو جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا۔
انہوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کی طاقت کے بے جا استعمال پر خاص طور پر تنقید کی۔
لارڈ حسین نے برطانیہ اور بین الاقوامی برادری سے کہا کہ وہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق کشمیر کے مسئلے کے حل کی حمایت کریں۔
**اہم اعداد و شمار** جنوبی ایشیا میں تقریباً 1.7 ارب لوگ رہتے ہیں، جس کی وجہ سے علاقائی تنازعات کا پرامن حل عالمی استحکام کے لیے بہت اہم ہے۔
کشمیر کا مسئلہ 1947 کی تقسیم سے جاری ہے، جس کے بارے میں 1948-49 میں متعدد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں ہیں جو ایک ریفرنڈم کی درخواست کرتی ہیں جو ابھی تک نافذ نہیں ہوئی۔
کنٹرول لائن کے 740 کلومیٹر طویل علاقے میں تناؤ کے باعث جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں وقفے وقفے سے اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ سالوں کے اعداد و شمار کے مطابق، ہر سال سینکڑوں واقعات پیش آتے ہیں، جو دونوں جانب شہری آبادیوں کو متاثر کرتے ہیں۔
پاکستان نے چالیس سالوں کے دوران لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے، جو اس کی علاقائی بوجھ بانٹنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ملک نے مغربی ممالک اور مسلم اکثریتی ریاستوں کے ساتھ فعال سفارتی تعلقات بھی برقرار رکھے ہیں، جس سے یہ پیچیدہ مذاکرات میں ایک ممکنہ پل کے طور پر ابھرتا ہے۔
**پس منظر** پاکستان نے حالیہ سالوں میں کئی محاذوں پر پس پردہ اور عوامی سفارتکاری میں مشغولیت کی ہے، بشمول افغانستان کو مستحکم کرنے اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ 2025 کے اوائل میں جوہری مسائل اور علاقائی پروکسیز کے تنازعات کے درمیان بڑھ گیا۔ پاکستان، جو ایران اور اہم مغربی اتحادیوں کے ساتھ سرحدیں اور اسٹریٹجک مفادات رکھتا ہے، نے متعدد رپورٹوں کے مطابق خاموش سفارتی سہولت فراہم کی۔
برطانوی ایوانِ بالا نے پاکستان کی اس مثبت کردار کی تعریف کی ہے۔
