Follow
WhatsApp

حکومت کا ⁦15.3⁩ ٹریلین روپے کا ٹیکس ہدف مقرر

حکومت کا ⁦15.3⁩ ٹریلین روپے کا ٹیکس ہدف مقرر

حکومت کا نئے ٹیکس آمدنی کا ہدف ⁦15.3⁩ ٹریلین روپے ہے۔

حکومت کا ⁦15.3⁩ ٹریلین روپے کا ٹیکس ہدف مقرر

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے اگلے مالی سال میں دو ٹریلین روپے سے زیادہ اضافی ٹیکس جمع کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے، اور FY2026-27 کے لیے 15.3 ٹریلین روپے سے زیادہ کا ایک بلند ہدف مقرر کیا ہے۔

بجٹ کے فریم ورک کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ مشاورت کا آغاز بدھ کو ہوا۔ IMF کا عملہ وزارت خزانہ کا دورہ کر رہا ہے جو کہ مذاکرات کے پہلے مرحلے کا حصہ ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر IMF کے وفد کے ساتھ براہ راست ملاقاتیں کرنے والے ہیں۔ بات چیت میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، سیلز ٹیکس کی چھوٹ میں کمی، اور اخراجات کو کنٹرول کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق، نیا ٹیکس ہدف موجودہ مالی سال کے نظرثانی شدہ تخمینوں کے مقابلے میں دو ٹریلین روپے سے زیادہ کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ حکام کا مقصد IMF کے ساتھ قریبی تعاون میں بجٹ کو حتمی شکل دینا ہے تاکہ مالیاتی معیارات کو پورا کیا جا سکے۔

IMF کے مشن کی قیادت مشن چیف ایوا پیٹرووا کر رہی ہیں، جنہوں نے ابتدائی ملاقاتوں کے دوران پاکستان کے میکرو اکنامک منظرنامے اور جاری اصلاحات کا جائزہ لیا۔ وفاقی بورڈ آف ریونیو (FBR) کے سینئر اہلکار بھی ان سیشنز میں شریک ہوئے۔

حکومت ٹیکس سے جی ڈی پی کے تناسب کو پالیسی اقدامات اور بہتر نفاذ کے ذریعے مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پاکستان کا موجودہ ٹیکس سے جی ڈی پی کا تناسب تقریباً 10-11 فیصد ہے، جو کہ علاقائی اوسط سے خاصی کم ہے۔

بات چیت میں کچھ چھوٹوں کے خاتمے اور ٹیکس کی بنیاد کو مزید شعبوں تک بڑھانے کا احاطہ کیا جائے گا۔ تجاویز میں مخصوص اشیاء پر سیلز ٹیکس میں تبدیلیاں اور لیکیجز کو روکنے کے اقدامات شامل ہیں۔

قرض کے انتظام کا شعبہ بھی ایک اہم موضوع ہے۔ حکام کا مقصد قرض کے بوجھ کو جی ڈی پی کے 70 فیصد تک کم کرنا ہے، جس کے لیے گھریلو آمدنی میں اضافہ اور کنٹرول شدہ قرضے لینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا عوامی قرضہ اس وقت جی ڈی پی کے 68-72 فیصد کے قریب ہے۔

فنڈ نے ساختی اصلاحات پر زور دیا ہے، جس میں نئے اقدامات کے ذریعے کئی سو ارب روپے کی آمدنی میں اضافہ اور بہتر تعمیل شامل ہے۔ بات چیت میں سبسڈی کی معقولیت اور ترقیاتی اخراجات کی ترجیحات بھی زیر بحث ہیں۔

بجٹ کی تیاری اس وقت ہو رہی ہے جب پاکستان ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی کے تحت اپنی مشغولیت جاری رکھے ہوئے ہے۔ حالیہ IMF کی قسطوں نے خارجی اکاؤنٹ کی استحکام میں مدد کی ہے، لیکن مالیاتی استحکام ایک بنیادی شرط بنی ہوئی ہے۔

FBR سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ٹیکس کی بنیاد کو وسعت دینے کے حوالے سے تفصیلی تجاویز پیش کرے گا۔ ریٹیلرز، تاجروں، اور تنخواہ دار طبقے کے افراد ممکنہ تبدیلیوں کے لیے جاری اسٹیک ہولڈر مشاورت میں شامل ہیں۔

پاکستان کی معیشت نے حالیہ سہ ماہیوں میں بہتر ذخائر اور کم ہوتی ہوئی مہنگائی کے ساتھ بحالی کے آثار دکھائے ہیں۔ تاہم، عوامی قرضوں کی خدمت اور آمدنی کی کمی مالیاتی جگہ پر دباؤ ڈال رہی ہے۔

آنے والا بجٹ آمدنی کی ضروریات کو ترقی کی حمایت کرنے والے اقدامات کے ساتھ متوازن کرے گا۔ کسی بھی ٹیکس ریلیف کے اقدامات ممکنہ طور پر IMF کے مقرر کردہ ہدف کو پورا کرنے کے لیے متبادل آمدنی کے ذرائع سے متوازن کیے جائیں گے۔

مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹیکس نیٹ کی کامیاب توسیع سے قرضے لینے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے اور نجکاری کے لیے جگہ بن سکتی ہے۔