اسلام آباد:
پاکستان میں عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو 2022 میں ایک کروڑ (10 ملین) سے کم ہو کر حالیہ برسوں میں تقریباً 60 لاکھ (6 ملین) رہ گئی ہے۔
معاشی ماہر ڈاکٹر فرخ سلیم نے اس رجحان کی نشاندہی کی، جس کی بنیادی وجہ مسلسل بلند مہنگائی ہے جس نے مختلف آمدنی گروپوں کی خریداری کی طاقت کو متاثر کیا ہے۔ حتیٰ کہ نسبتاً زیادہ آمدنی والے گھرانوں کے لیے بھی قربانی کے جانور خریدنا مشکل ہو رہا ہے۔
مویشیوں اور کھالوں کی ایسوسی ایشنز کے سرکاری تخمینے ظاہر کرتے ہیں کہ قربانی کے جانوروں کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2022 کی سطح کے مقابلے میں کئی ملین جانوروں کی کمی آئی ہے، جو کہ وسیع تر اقتصادی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔
**جانوروں کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔** بڑی مارکیٹوں میں بکرے اور بھیڑوں کی اوسط قیمتیں 50-70 فیصد بڑھ گئی ہیں، جبکہ کچھ معاملات میں گائے اور بیل کی قیمتیں تقریباً دوگنا ہو گئی ہیں، جو درمیانے سائز کے جانوروں کے لیے 200,000 سے 330,000 روپے تک پہنچ گئی ہیں۔
خوراک کی قیمتیں، نقل و حمل کے اخراجات، اور مجموعی مہنگائی نے ان اضافوں کو جنم دیا ہے۔ پاکستان کی مہنگائی کی شرح، جو 2023 میں 38 فیصد پر پہنچ گئی تھی، اب بھی خوراک اور مویشیوں کے شعبوں کو متاثر کر رہی ہے، حالانکہ 2026 کے اوائل میں یہ تقریباً 10.9 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔
**یہ کمی دیہی معیشتوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔** قربانی کے جانوروں سے بڑی اقتصادی سرگرمی پیدا ہوتی ہے، حالیہ عیدوں کے لیے اس کی قیمت 600-800 ارب روپے کے درمیان ہے، جو مویشیوں کی فروخت، کھالوں، اور متعلقہ تجارت کے ذریعے سالانہ جی ڈی پی میں تقریباً ایک فیصد کا حصہ ڈالتی ہے۔
پنجاب، سندھ، اور خیبر پختونخوا کے مویشی پالنے والے اور تاجر کمزور طلب کی رپورٹ کر رہے ہیں۔ بہت سے متوسط آمدنی والے خاندانوں نے یا تو چھوٹے جانوروں کا انتخاب کیا ہے یا انفرادی قربانی کو مکمل طور پر چھوڑ دیا ہے، کبھی کبھار اجتماعی انتظامات میں شامل ہو رہے ہیں۔
**حکومت اور مذہبی علماء نے اس رجحان کا نوٹس لیا ہے۔** اگرچہ قربانی ایک اہم سنت ہے، لیکن اقتصادی حقیقتیں خاندانوں کو اس رسم کو پورا کرنے کے طریقوں میں تبدیلی کرنے پر مجبور کر رہی ہیں۔ رپورٹس میں شرکت کی شرح میں کمی کا ذکر ہے، جس میں سروے ظاہر کرتے ہیں کہ پچھلے سالوں کے مقابلے میں کم گھرانے قربانی کر رہے ہیں۔
**پس منظر کے عوامل میں 2022 کے سیلاب شامل ہیں** جنہوں نے مویشیوں کی آبادی کو متاثر کیا، ساتھ ہی گوشت کی برآمد کی بڑھتی ہوئی طلب اور مستقل خوراک کی مہنگائی بھی۔ ان عوامل نے سپلائی کی دستیابی کو کم کر دیا ہے اور مقامی خریداروں کے لیے قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔
کراچی، لاہور، اور اسلام آباد کے مارکیٹ کے ذرائع اس سال مویشی منڈیوں میں کم تعداد کی تصدیق کرتے ہیں، جہاں فروخت کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔
**یہ رجحان طویل مدتی پائیداری کے بارے میں سوالات اٹھاتا ہے۔** اگر یہ کمی جاری رہی تو یہ مویشیوں کی نسل کشی کے پیٹرن اور دیہی آمدنیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے جو عید کی طلب پر منحصر ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چھوٹے کسانوں کے لیے ہدفی مدد اور قیمتوں کے ریگولیشن کے طریقے اس شعبے کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹر سلیم کے بیانات نے اس بات پر بحث چھیڑ دی ہے کہ مہنگائی روایتی طریقوں کو کس طرح تبدیل کر رہی ہے۔ بہت سے خاندان اب بڑے جانوروں کے بجائے ضروریات کو ترجیح دیتے ہیں۔
