Follow
WhatsApp

پاکستان نے بھارتی دہشت گردوں کو پنجر میں مار گرایا

پاکستان نے بھارتی دہشت گردوں کو پنجر میں مار گرایا

پنجر میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا صفایا کیا

پاکستان نے بھارتی دہشت گردوں کو پنجر میں مار گرایا

اسلام آباد: سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے پنجر ضلع میں 3-4 جون کی رات ایک انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا، جس میں بھارتی پراکسی گروپ فتنہ الہندوستان سے وابستہ چھ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ISPR) نے تصدیق کی کہ دہشت گرد متعدد خفیہ مقامات پر موجود تھے، جن کی معلومات قابل اعتبار انٹیلیجنس رپورٹس کے ذریعے حاصل ہوئی تھیں۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں تمام چھ آپریٹوز کو ختم کر دیا گیا۔

مقام سے ہتھیار، گولہ بارود، خود ساختہ دھماکہ خیز مواد (IEDs) اور ایک گاڑی برآمد کی گئی۔ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کا تعلق اس علاقے میں کئی دہشت گردی کی سرگرمیوں سے تھا۔

علاقے میں باقی ماندہ خطرات کو ختم کرنے کے لیے صفائی کے آپریشن جاری ہیں۔ یہ پیشرفت آپریشن عزمِ استحکام کے تحت بلوچستان اور دیگر صوبوں میں دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کے دوران سامنے آئی ہے۔

**سرکاری بیانات**

ISPR کے بیان میں دہشت گردوں کو فتنہ الہندوستان کے بھارتی حمایت یافتہ عناصر قرار دیا گیا۔ اس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ سیکیورٹی فورسز نے کسی بھی قسم کے نقصان کے بغیر خفیہ مقامات کو مؤثر طریقے سے ختم کر دیا۔

پاکستانی حکام نے بار بار بھارت کے کردار کو اجاگر کیا ہے کہ وہ ایسے پراکسیز کی حمایت کرتا ہے تاکہ بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔ بلوچستان میں موجود گروپوں کو فتنہ الہندوستان کے طور پر نامزد کرنا بیرونی مداخلت کو بے نقاب کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔

بھارتی حکام کی جانب سے تازہ ترین آپریشن پر فوری کوئی تبصرہ دستیاب نہیں تھا۔

**اہم معلومات اور اعداد و شمار**

یہ آپریشن پنجر میں سرگرم دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا، جو اس سال متعدد واقعات کا شکار رہا ہے۔ 25 جنوری 2026 کو، سیکیورٹی فورسز نے اسی ضلع میں ایک مقامی کمانڈر سمیت تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔

29 جنوری 2026 کو، پنجر میں ایک اور آپریشن نے اسی نیٹ ورک سے وابستہ 11 دہشت گردوں کو ختم کر دیا، جن کے ساتھ لوٹی ہوئی نقدی اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا۔

جنوری 2026 کے آخر میں، بلوچستان بھر میں مشترکہ آپریشنز کے نتیجے میں 41 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن میں سے کئی فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج سے منسلک تھے۔

بلوچستان میں 2026 میں شدت پسند سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ پنجر میں کئی IED حملے اور جھڑپیں ہوئی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے صوبے بھر میں درجنوں IBOs کیے ہیں، جس میں ہتھیاروں اور گولہ بارود کی بڑی مقدار برآمد کی گئی ہے۔

**پس منظر**

پنجر ضلع جنوب مغربی بلوچستان میں ایرانی سرحد کے قریب واقع ہے۔ یہ اپنی مشکل زمین اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کی تاریخ کی وجہ سے انسداد دہشت گردی کے لیے ایک اہم نقطہ رہا ہے۔

پاکستان نے طویل عرصے سے بھارتی انٹیلیجنس ایجنسیوں پر بلوچ باغی گروپوں کی حمایت کا الزام لگایا ہے تاکہ عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔ فتنہ الہندوستان کی اصطلاح ایسے عناصر کی نشاندہی کے لیے وضع کی گئی ہے، جو سرحد پار روابط کی عکاسی کرتی ہے۔

بڑے سیکیورٹی مہم، آپریشن عزمِ استحکام، جو 2024 میں شروع ہوا، باقی بچ جانے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف انٹیلیجنس پر مبنی کارروائیوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے، خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں۔