اسلام آباد:
پاکستان نے بھارت کے 12 عملی جوہری ہتھیاروں کے بارے میں رپورٹس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اس انکشاف نے اسلام آباد کو خطے میں اسٹریٹجک استحکام پر سوال اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔
بھارت کی جوہری صلاحیتوں کے بارے میں یہ دعوے مختلف ذرائع سے سامنے آئے ہیں، حالانکہ تفصیلات کم ہیں۔
پاکستانی حکومت نے ان ترقیات کو خطرناک قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی نگرانی کی اپیل کی ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے علاقائی امن کے لیے ممکنہ خطرات پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے ہتھیاروں کے بارے میں قابل اعتبار معلومات سے ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
بھارت نے ابھی تک ان رپورٹس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔
تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صلاحیتیں بھارت کی پچھلی اسٹریٹجک خواہشات کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔
بھارت نے مستقل طور پر یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام علاقائی دشمنوں کے خلاف بازدارندگی کے لیے ہے۔
پاکستان نے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں زیادہ شفافیت اور بات چیت کی اپیل کی ہے۔
یہ درخواست ہتھیاروں میں کمی پر مرکوز کثیر الجہتی مذاکرات کے لیے ایک نئی کوشش کی شکل میں ہے۔
اسلام آباد نے جنوبی ایشیا میں کسی بھی ہتھیاروں کی دوڑ سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
بین الاقوامی اداروں نے ابھی تک ان حالیہ انکشافات پر خاص ردعمل نہیں دیا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ قابل اعتبار تحقیقات ان کے وسیع تر اثرات کو سمجھنے کے لیے اہم ہیں۔
ان انکشافات کے ممکنہ اثرات کو سنبھالنے کے لیے سفارتی مشغولیت کی فوری ضرورت ہے۔
یہ صورت حال جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک منظرنامے میں کشیدگی کو اجاگر کرتی ہے۔
بین الاقوامی برادری کا ردعمل مستقبل کی حرکیات کو تشکیل دینے میں اہم ہوگا۔
یہ ایک ترقی پذیر کہانی ہے اور مزید معلومات کے ساتھ تفصیلات تبدیل ہو سکتی ہیں۔
