اسلام آباد:
پاکستان اور یورپی یونین نے اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں جموں و کشمیر کے مسئلے کا ذکر کیا گیا ہے اور پرامن تنازعہ حل کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
یہ بیان اس وقت آیا جب یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس نے 1 جون 2026 کو نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے ساتھ EU-Pakistan اسٹریٹجک مذاکرات کے آٹھویں دور کی مشترکہ صدارت کی۔
اعلامیہ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پاکستانی وفد نے یورپی یونین کو جموں و کشمیر کے بارے میں آگاہ کیا جبکہ یورپی یونین نے پاکستان کو روس کی یوکرین کے خلاف جنگ کے بارے میں آگاہ کیا۔ دونوں جانب نے مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اظہار کیا، جو کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق ہے۔
پاکستانی حکام اس شمولیت کو ایک سفارتی کامیابی سمجھتے ہیں جو کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی ایجنڈے پر برقرار رکھتا ہے۔ مذاکرات میں تجارت، سیکیورٹی، ہجرت، اور ماحولیاتی مزاحمت کے موضوعات بھی شامل تھے، دونوں جانب نے گہرے تعاون کا عہد کیا۔
**سرکاری بیانات** وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مذاکرات کے دوران جموں و کشمیر پر پاکستان کا موقف دہرایا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق پرامن حل کی اپیل کی۔
کاجا کالاس نے پاکستان کو ایک بڑی علاقائی طاقت اور یورپی یونین کے لیے اہم شراکت دار قرار دیا۔ انہوں نے 2019 میں دستخط شدہ اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان کے تحت تعلقات کو مضبوط کرنے میں بلاک کی دلچسپی کو اجاگر کیا۔
ایک سینئر پاکستانی سفارتکار نے کہا کہ مشترکہ پیراگراف یورپی یونین کے علاقائی حقیقتوں کے اعتراف کی عکاسی کرتا ہے۔ “پاکستان نے ہمیشہ کشمیر سمیت تمام زیر التواء مسائل پر مذاکرات کی وکالت کی ہے،” انہوں نے مزید کہا۔
**مذاکرات کی اہم تفصیلات** یہ اسٹریٹجک مذاکرات سات سال میں پاکستان کا دورہ کرنے والے یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ کا پہلا دورہ ہے۔ بات چیت میں پاکستان کی یورپی یونین کے نئے GSP+ ضابطے میں دلچسپی شامل تھی، جو زیادہ تر برآمدات کے لیے ڈیوٹی فری رسائی فراہم کر سکتا ہے اور 12 ارب یورو تک تجارتی فوائد کی حمایت کر سکتا ہے۔
دونوں جانب نے پاکستان کے علاقائی استحکام میں کردار کی تعریف کی، جس میں 2026 میں اسلام آباد مذاکرات کے ذریعے امریکہ-ایران کے تعلقات کو فروغ دینا شامل ہے۔
**پس منظر** جموں و کشمیر کا مسئلہ 1947 سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک طویل مدتی تنازعہ رہا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری خواہشات کی بنیاد پر حل ہونا چاہیے۔ بھارت اسے ایک داخلی معاملہ سمجھتا ہے۔
1951 کی شمولیت اور اس کے بعد کی جنگوں نے سرحدی حیثیت کو تشکیل دیا ہے۔ پاکستان آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا انتظام کرتا ہے جبکہ بھارت باقی حصے پر کنٹرول رکھتا ہے، جو 2019 میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد ہوا۔
**ردعمل اور اثرات** اس پیراگراف نے علاقائی سفارتی حلقوں میں توجہ حاصل کی ہے۔ بھارتی تجزیہ کاروں نے یورپی یونین کے کشمیر کو بین الاقوامی بریفنگ کے موضوع کے طور پر قبول کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ پاکستانی حلقوں نے اسے جاری کشیدگی کی متوازن شناخت کے طور پر خوش آمدید کہا۔
پاکستان میں مقامی اسٹیک ہولڈرز اس بیان کو جنوبی ایشیاء میں امن کے لیے کثیر الجہتی طریقوں کو مضبوط کرنے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
