ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی افغانستان سے شکست کے بعد سابق کرکٹرز اور کرکٹشائقین نے ٹیم پر تنقید شروع کردی۔ پاکستان نے اس ورلڈ کپ میں 5 میچز میں حصہلیا ہے جس میں 2 جیتے اور 3 ہارے ہیں۔
گرین شرٹس کو اپنا اگلا میچ جمعہ کو جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلنا ہے۔افغانستان سے ہارنے کے بعد ماہرین کرکٹ نے قومی ٹیم کو بھی تنقید کا نشانہبنایا۔ تجزیہ کار نعمان نیاز نے کہا کہ کئی باصلاحیت کھلاڑی ٹیم سے باہر ہوگئے ہیں۔
شاداب خان اور اسامہ میر ایسے بولر ہیں جو ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں مہارت رکھتےہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں انہوں نے شاداب خان کو اپنی دوستی پر ترجیح دی،وہیں فرسٹ کلاس اور ٹیسٹ کرکٹ میں ان کے تجربے کی کمی نے انہیں ایک روزہ بینالاقوامی میچوں میں اچھی کارکردگی دکھانے سے روکا۔
نعمان نیاز نے نشاندہی کی کہ یہ صورتحال حارث رؤف کی طرح ہے۔ انہوں نےباصلاحیت اسپنر ابرار احمد کو 15 رکنی اسکواڈ میں شامل نہیں کیا کیونکہ انہیںخدشہ تھا کہ اگر شاداب خان کی کارکردگی بہتر نہ ہوئی تو انہیں فائنل 11 سےڈراپ کرنا پڑے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پلان غلط تھا کیونکہ عبداللہ شفیق اور سعود شکیل جیسےکھلاڑیوں کو اس پلان میں شامل نہیں کیا گیا اور فی الحال وہ اچھی کارکردگی کامظاہرہ کر رہے ہیں۔
