غزہ کے ایک اسپتال پر اسرائیلی فوج کے حملے کے نتیجے میں 500 سے زائد افرادہلاک ہوچکے ہیں، جس پر دنیا بھر سے تعزیت کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اسرائیل کاموقف ہے کہ اس کی افواج نے غزہ میں کسی ہسپتال کو نشانہ نہیں بنایا اور اس نےاس دعوے کی تردید کی ہے کہ یہ حملہ اس نے کیا تھا۔
اسرائیل کی تردید کے بعد اقوام متحدہ میں فلسطینی ایلچی ریاض منصور نے اسپتالپر اسرائیلی حملے کے حوالے سے حقیقت بتا دی۔ منصور کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ترجمان نے حملے کے بعد ٹویٹ کیا کہ اسرائیل نے ہسپتالپر حملہ اس لیے کیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ حماس قریب ہی موجود ہے۔
تاہم بعد میں اس ٹویٹ کو ہٹا دیا گیا۔ منصور نے اس ٹویٹ کی کاپی اپنے پاسرکھنے کا دعویٰ کیا اور اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ فلسطینی عوام پر الزاملگانے کے لیے تاریخ کو دوبارہ لکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ ایک ہفتہ قبل اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہاگیا تھا کہ ہسپتالوں کو خالی کر دیا جائے کیونکہ وہ ٹارگٹ تھے۔
اقوام متحدہ میں اسرائیل کے اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے، ریاض منصور نےامریکی صدر بائیڈن پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالیںاور اسرائیل کو بتائیں کہ “بہت ہو چکا”۔ ضروری ہے کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینیشہریوں کے قتل عام کو روکا جائے۔
