چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان کے مطابق انتخابات میں مدد کے لیے فوج اوررینجرز کو بھی استعمال کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہتفصیلات کے مطابق سندھ میں 2 کروڑ 67 لاکھ 83 ہزار 254 رجسٹرڈ ووٹرز کے ووٹ کاحق استعمال کرنے کی توقع ہے۔
راجہ سکندر سلطان کے مطابق الیکشن میں مدد کے لیے فوج اور رینجرز کو استعمالکیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق سندھ کے چیف سیکریٹری نے تمام ہدایات پرعمل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
خاموشی کو بند کر دیں۔ سندھ میں صوبائی اسمبلی کی 130 اور قومی اسمبلی کی 61نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔ سندھ میں 19 ہزار 236 پولنگ اسٹیشنز بنانے کامنصوبہ ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 8 ہزار 80 پولنگ مقامات کو حساس قرار دیاگیا ہے جب کہ سندھ میں 4 ہزار 4330 پولنگ مقامات کو انتہائی حساس قرار دیا گیاہے۔
چیف سیکریٹری سندھ نے کہا کہ الیکشن کمیشن جو کہ ہدایات کے مطابق 100 فیصدٹرانسفر پوسٹنگ کر رہا ہے، الیکشن کمیشن کو سندھ حکومت کی مکمل حمایت حاصلہوگی۔ مزید برآں، چیف سیکریٹری سندھ نے وعدہ کیا کہ پولنگ کے مقامات پر تمامسہولیات دستیاب ہوں گی۔
انسپکٹر جنرل سندھ نے اعلان کیا کہ سندھ پولیس نے سیکیورٹی پلان تیار کرلیاہے اور عام انتخابات کے دوران 1,10,000 پولیس اہلکار ڈیوٹی پر ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں کوئیک رسپانس فورس کوبھی مطلع کیا جائے گا۔ ہم پرامن انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکنکوشش کریں گے۔

