اسرائیل حماس جنگ کے حوالے سے قطر کا حیران کن اقدام

اسرائیل حماس جنگ کے حوالے سے قطر کا حیران کن اقدام

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق قطر اسرائیلی جیلوں سے 36 فلسطینی خواتین اوربچوں کی رہائی کے بدلے میں قید اسرائیلی خواتین اور بچوں کی رہائی کے لیے حماسکے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔

اگرچہ ابھی تک کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوئی ہے، لیکن ذریعہ نے اشارہ کیا کہ یہبات چیت سازگار طور پر آگے بڑھ رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، سنہوا ایجنسی نے اطلاعدی ہے کہ حماس نے قطر کو اسرائیلی حکومت کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدےکو مدنظر رکھنے کے لیے اپنی تیاری سے آگاہ کر دیا ہے، جس میں تمام فلسطینیخواتین قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کا یہ فوری تبادلہ قطر کی ثالثی میں کیا جارہا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق، اسرائیل کے وزیر دفاع نے اس سے قبل غزہ کی پٹی کی”مکمل ناکہ بندی” کا اعلان کیا تھا، جس میں خوراک اور ایندھن کی درآمد پرپابندیاں شامل تھیں۔ بجلی کی معطلی اور سپلائی کی بندش ان متعدد اقدامات میںشامل تھے جن کا اعلان اسرائیل کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے غزہ کے خلاف کیا تھا۔

7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی سے 2000 سے زائد راکٹ داغے جانے کے بعد اسرائیلی افواجاور حماس کے درمیان تنازعہ شروع ہو گیا۔ مقامی میڈیا اور طبی ماہرین نے رپورٹکیا کہ حماس نے اسرائیل کے جنوبی علاقوں میں گھس کر یہودی ریاست پر اہم حملہکیا۔