صوبہ پنجاب linkکےعلاقہ لودھراں میں اسکول پرنسپل نے خاتون ٹیچر سے مبینہ زیادتی کی ویڈیوبناکر سوشلمیڈیا linkپروائرل کردی، پرنسپل کو برطرف کرکے اسکول کی نان فارمل سینٹر کی حیثیت بھی ختمکردی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واقعے کے حوالے سے پولیسlinkنے کہا ہے کہ اسکولپرنسپل کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں، جس پرچھمب کلیار کے رہائشی نے الزام لگایا کہ اس کی بیٹی اسکول میں بطور ٹیچرپڑھاتی تھی جہاں پرنسپل نے اس کی بیٹی کے ساتھ مبینہ زیادتی کی اور ویڈیو بھیبنالی، میری بیٹی بدنامی کی وجہ سے خاموش رہی اب جب اس کی ویڈیو وائرل ہوئی توبیٹی نے بتایا کہ پرنسپل نے اس کے ساتھ مبینہ زیادتی کی اور ویڈیو بھی بنائی۔
(جاری ہے)
متاثرہ خاتون کے والد نے الزام لگایا کہ ملزم اکثر خاتون ٹیچرز اور طالبات سےمبینہ زیادتی کرچکا ہے، پرنسپل کے ساتھ اس کے 2 ساتھی بھی اس گھناؤنے فعل میںملوث ہیں، پرنسپل خاتون ٹیچرز کے ساتھ زیادتی کرتا دوسرا ملزم ویڈیو بناتا اورتیسرا ملزم پہرا دیتا تھا۔ اس سلسلے میں متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او نے بتایاکہ زیادتی کا واقعہ 2018ء کا ہے ویڈیوز وائرل ہونے پر پرنسپل اسکول کو تالےلگا کر فرار ہوگیا، ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہے ہیں۔
دوسری طرف کراچی linkکےعلاقے گلشن حدید میں واقع نجی اسکول کے پرنسپل کی جانب سے خواتین کو زیادتی کانشانہ بنائے جانے کے کیس میں دوران تفتیش ہونے والے انکشاف نے کیس کو نیا رخدے دیا، کراچی linkکیمقامی عدالت linkمیںبدھ کے روز ہوئی سماعتlinkکے دوران پولیسlinkنے ملزم کو عدالتlinkمیں پیش کیا، اسموقع پر سرکاری وکیل نے انکشاف کیا کہ ملزم اکیلا نہیں ہے یہ پورا گروہ ہے، ابتک 45 سے زائد متاثرہ خواتین کا پتہ چلا ہے، ملزم خواتین کو بلیک میل کرتاتھا، ملزم سے تفتیش کے بعد مزید کارندے بھی گرفتار کرنے ہیں۔
تفتیشی افسر نے کہ
