الاسکا میں جمعہ کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپکے درمیان ہونے والے سربراہی اجلاس میں یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے اہم تجاویزسامنے آئیں۔ اجلاس کے دوران صدر پیوٹن نے تجویز پیش کی کہ یوکرین کو مشرقیعلاقے ڈونباس کو روس کے حوالے کرنا ہوگا، نیٹو میں شمولیت سے دستبردار ہوناہوگا، غیرجانبداری اختیار کرنی ہوگی، اور مغربی فوجیوں کی تعیناتی پر پابندیعائد کرنی ہوگی۔ بدلے میں، روس نے خیرسون اور زاپوریژیا میں محاذوں کو منجمدکرنے اور دیگر علاقوں سے دستبرداری کی پیشکش کی۔
فاکس نیوز کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگریوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی ڈونباس چھوڑنے کے لیے تیار ہیں تو امن معاہدے پربات چیت کی جا سکتی ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق، ٹرمپ نے یورپی رہنماؤں کو فونپر بتایا کہ روسی صدر نے کلیدی لوہانسک اور ڈونیٹسک کے حصول کی خواہش کا اعادہکیا اور زاپوریژیا اور خیرسون میں جنگ ختم کرنے اور اگلے مورچوں کو خالی کرنےکی آمادگی ظاہر کی۔
تاہم، یوکرینی صدر زیلنسکی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈونباسیوکرین کے لیے اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے اور نیٹو میں شمولیت کی خواہش ان کےآئین میں شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کی جانب سے حالیہ دنوں میں حملےجاری ہیں، جس کی وجہ سے امن کی پیشکش میں سنجیدگی کا فقدان ہے۔
یورپی رہنماؤں نے بھی اجلاس پر تشویش کا اظہار کیا اور زور دیا کہ یوکرین کیخودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جائے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئیلاوروف نے اس معاملے پر کہا کہ یوکرین کی جانب سے امن مذاکرات میں سنجیدگی کافقدان موجود ہے، جبکہ یوکرینی افواج نے روسی توانائی کی تنصیبات پر حملے جاریرکھے ہیں، جس سے روسی توانائی کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔
مجموعی طور پر، الاسکا سربراہی اجلاس نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے نئیتجاویز پیش کی ہیں، لیکن اختلافات اور عدم اعتماد کی وجہ سے امن کے امکاناتابھی تک واضح نہیں ہیں
