پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں نے تباہی مچا دی ہے جس کے بعد حکومتِ پنجاب نےصوبے بھر میں سیکشن 144 نافذ کر دیا ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق دریاوں،نہروں، جھیلوں اور بندوں میں تیراکی، کشتی رانی اور دیگر آبی سرگرمیوں پر مکملپابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ عوامی مقامات پر جمع ہونے والے بارش کے پانیمیں نہانے یا کھیلنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ اقدام عوام کو ممکنہ جانینقصان اور حادثات سے بچانے کے لیے اٹھایا گیا ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں کئیشہری ڈوبنے کے واقعات اور چھتیں گرنے کے حادثات رونما ہو چکے ہیں۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ پابندیاں کم از کم 30 اگست تک نافذ رہیں گی اورعوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خطرناک مقامات سے دور رہیں اور حکومتی ہدایاتپر عمل کریں۔ دوسری جانب محکمہ موسمیات اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(NDMA) نے بھی وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مون سون بارشیں اگلے چند دنوںتک جاری رہیں گی اور دریاؤں کے کنارے یا نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر افراد کوخاص احتیاط برتنی چاہیے۔
لاہور، فیصل آباد، اوکاڑہ، ساہیوال اور پاکپتن سمیت کئی شہروں میں بارشوں کےباعث نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں، چھتیں گرنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے اورکئی دیہات کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہو گیا ہے۔ پی ڈی ایم اے (PDMA) کی جانبسے امدادی ٹیمیں الرٹ کر دی گئی ہیں جبکہ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ غیرضروری سفر اور خطرناک سرگرمیوں سے گریز کریں۔
یہ فیصلہ بظاہر سخت ضرور ہے مگر حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ عوام کی حفاظتاولین ترجیح ہے۔ صوبائی انتظامیہ نے اپیل کی ہے کہ شہری حکومتی ہدایات پر عملکریں اور اپنی اور اپنے اہل خانہ کی جانوں کو غیر ضروری خطرے میں نہ ڈالیں۔
