ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب – دبئی نے خرید و فروخت کا نیا انداز متعارف کرادیا

ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب – دبئی نے خرید و فروخت کا نیا انداز متعارف کرادیا

دبئی: چہرے سے ادائیگی کا نیا دور شروع

دبئی ایک بار پھر دنیا کو اپنی جدید ٹیکنالوجی کے انوکھے اقدامات سے حیران کررہا ہے۔ اب دبئی میں خریداری یا سفر کے دوران صارفین کو نہ پرس نکالنے کیضرورت ہوگی اور نہ ہی موبائل فون ساتھ رکھنے کی، کیونکہ اب صرف اپنا چہرہ دکھاکر ادائیگی کی جا سکے گی۔ اس نظام کو “فیس پے” (Face Pay) کہا جا رہا ہے اوریہ ٹیکنالوجی بین الاقوامی کمپنی پاپ آئی ڈی (PopID) کے تعاون سے متعارف کرائیگئی ہے۔

یہ سہولت سب سے پہلے دبئی کے معروف سپرمارکیٹ چین *کیر فور (Carrefour)* میںفراہم کی گئی ہے، جہاں خریدار بغیر کسی کارڈ یا کیش کے محض کیمرے کے سامنےکھڑے ہو کر ادائیگی مکمل کر سکتے ہیں۔ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد صارفین کوآسانی، تیز رفتاری اور زیادہ محفوظ لین دین کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

دبئی صرف ریٹیل تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہمستقبل میں پبلک ٹرانسپورٹ جیسے میٹرو، ٹرام، بس اور ٹیکسی میں بھی چہرے سےادائیگی کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ’’اسمارٹ گیٹس‘‘ ڈیزائنکیے جا رہے ہیں جو مسافروں کو صرف چند سیکنڈ میں ادائیگی اور انٹری کی سہولتفراہم کریں گے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے 32 فیصدصارفین پہلے ہی بایومیٹرک ادائیگی جیسے فنگر پرنٹ اور فیس ریکگنیشن کو ترجیحدیتے ہیں، جو عالمی اوسط کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دبئی اسشعبے میں دنیا کا پہلا ملک بننے جا رہا ہے، جہاں روزمرہ زندگی میں چہرے سےادائیگی عام رواج اختیار کر لے گی۔

یہ اقدام نہ صرف ٹیکنالوجی کے میدان میں دبئی کی برتری کو ظاہر کرتا ہے بلکہمستقبل کی اس دنیا کی عکاسی بھی کرتا ہے جہاں شناخت اور ادائیگی کے لیے صرفایک مسکراہٹ کافی ہوگی۔