10 اگست 2025 کو زیارت میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جب اسسٹنٹ کمشنر زیارتمحمد افضل اور ان کے بیٹے کو دہشت گردوں نے زبردستی اغواء کر لیا۔ یہ واقعہ اسوقت پیش آیا جب وہ اپنے معمول کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ واقعے کی اطلاع ملتےہی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مغویان کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ حکام اس کیس کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور تمام دستیابوسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
اس واقعے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ،صوبائی حکام اور عسکری قیادت اس معاملے پر مسلسل رابطے میں ہیں۔ حکومتبلوچستان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس مغویوں کے بارے میں مستنداور مصدقہ معلومات موجود ہیں تو وہ فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔عوامی تعاون کو اس کیس میں کامیابی کے لیے کلیدی قرار دیا جا رہا ہے۔
حکومت بلوچستان نے اعلان کیا ہے کہ مغویوں کے اغواء کاروں کے بارے میں معلوماتفراہم کرنے والے شخص کو 5 کروڑ روپے کا انعام دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی یہبھی واضح کیا گیا ہے کہ اطلاع دینے والے کا نام مکمل رازداری کے ساتھ رکھاجائے گا، تاکہ کوئی بھی شخص بلا خوف و خطر معلومات فراہم کر سکے۔ یہ انعام اسبات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت اس معاملے کو کتنی اہمیت دے رہی ہے۔
اس واقعے نے علاقے میں خوف اور تشویش کی فضا پیدا کر دی ہے، خاص طور پر سرکاریافسران اور ان کے اہل خانہ میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے۔ عوام اور سولسوسائٹی نے بھی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہمغویوں کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنائیں اور ایسے عناصر کو قانون کے کٹہرے میںلائیں جو معاشرے کے امن کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
کیا آپ چاہیں تو میں اس پر ایک *ہیڈلائن بھی بنا دوں جو سنسنی خیز اور توجہکھینچنے والی ہو*؟
