جہازِ میرِ سیلسٹ کا پراسرار گمشدگی کا راز: عملہ کہاں اور کیوں غائب ہوا؟

جہازِ میرِ سیلسٹ کا پراسرار گمشدگی کا راز: عملہ کہاں اور کیوں غائب ہوا؟

بحری جہاز ’میری سیلسٹ‘ کی پراسرار کہانی ایک صدی سے زائد عرصے سے حل طلب ہے۔7 نومبر 1872 کو یہ جہاز نیو یارک سے اٹلی کے لیے روانہ ہوا تھا، جس پر کپتانبینجمن بریگز، ان کی بیوی، بیٹی اور سات عملے کے ارکان سمیت کل 10 افراد سوارتھے۔ تاہم، ان 10 افراد کا انجام آج تک ایک راز ہی رہا۔

5 دسمبر 1872 کو برطانوی جہاز ’دی گراتیا‘ کے عملے نے پرتگال کے قریب سمندرمیں ایک لاوارث جہاز دیکھا، جو میری سیلسٹ تھا۔ جب انہوں نے جہاز پر قدم رکھاتو کیبن میں مختلف نقشے بکھرے ہوئے تھے، سامان موجود تھا مگر عملہ غائب تھا۔جہاز کی واحد لائف بوٹ بھی گم تھی، شاید عملے نے جان بچانے کے لیے اسے استعمالکیا تھا۔ تاہم، جہاز کے پمپوں میں سے ایک کھلا تھا اور نچلے حصے میں پانی جمعتھا۔ جہاز پر کھانے پینے اور صنعتی الکحل کا ذخیرہ بھی موجود تھا، مگر کوئیانسان نہیں تھا۔

یہ بات حیران کن ہے کہ عملہ بغیر کسی حملے یا سمندری طوفان کے اچانک کہاں غائبہوگیا۔ میری سیلسٹ کی تاریخ بھی واقعات سے بھری ہوئی ہے؛ اس کے پہلے کپتان کاانتقال نمونیا سے ہوا، یہ کئی بار حادثات کا شکار ہوا، جیسے کہ ریت میں پھنسجانا اور دوسرے جہاز سے ٹکرانا۔

بعد میں اسے رچرڈ ڈبلیو ہینس نے خریدا اور ’میری سیلسٹ‘ کا نام دیا، جسے پھرکیپٹن بینجمن سپونر بریگز کو فروخت کیا گیا۔ برطانوی جہاز ’دی گراتیا‘ کے عملےنے میری سیلسٹ کو جبرالٹر لے جاکر تحقیقاتی حکام کے حوالے کیا، مگر کوئی ٹھوسجواب نہ مل سکا۔

یہ جہاز بعد میں انشورنس حاصل کرنے کے لیے جان بوجھ کر ایک چٹان سے ٹکرا دیاگیا، لیکن وہ تب بھی ڈوبا نہیں۔ اس کے بعد جہاز کو چھوڑ دیا گیا اور کچھ سالوںبعد یہ سمندر میں غرق ہو گیا۔

آج بھی یہ معمہ حل نہیں ہو سکا کہ جہاز کے عملے کے ساتھ آخر کیا ہوا، کیوں وہاچانک جہاز چھوڑ کر غائب ہوگئے یا انہیں زبردستی کہاں لے جایا گیا۔