Follow
WhatsApp

ایران کے ڈرونز نے دوبارہ ⁦UAE⁩ کے جہاز کو نشانہ بنایا

ایران کے ڈرونز نے دوبارہ ⁦UAE⁩ کے جہاز کو نشانہ بنایا

ایران کے ڈرونز نے ⁦UAE⁩ کے ⁦ADNOC⁩ ٹینکر پر حملہ کیا۔

ایران کے ڈرونز نے دوبارہ ⁦UAE⁩ کے جہاز کو نشانہ بنایا

اسلام آباد: ہارموز کی خلیج میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

ایران کے ڈرونز نے ADNOC کے جہاز کو نشانہ بنایا، جس سے علاقائی بے چینی میں اضافہ ہوا۔

یہ اس اسٹریٹجک راستے میں ADNOC ٹینکرز پر 19 واں حملہ ہے۔

ہارموز کی خلیج تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔

امریکی توانائی معلوماتی انتظامیہ کے مطابق، دنیا کے تقریباً 20% خام تیل اس راستے سے گزرتا ہے۔

یہ حالیہ حملہ صرف دو دنوں میں جہازوں پر تیسرا واقعہ ہے۔

حالیہ واقعات ایک تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں جو دشمنی میں اضافے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

اس سے پہلے، دو دیگر ADNOC جہاز بھی اسی طرح نشانہ بنائے گئے تھے جب وہ خلیج میں سفر کر رہے تھے۔

ریاستی ملکیت میں ہونے والی ADNOC، جو UAE کی تیل کی پیداوار کی ذمہ دار ہے، نے ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ماہرین نے ڈرون حملوں کو بین الاقوامی سمندری سلامتی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ایران کا موقف علاقائی عدم استحکام کے الزامات کے درمیان ڈٹا ہوا ہے۔

ایران اکثر اپنے اقدامات کو حفاظتی تدابیر کے طور پر دفاع کرتا ہے۔

بین الاقوامی نگرانی کرنے والے ان بار بار کے حملوں کی مذمت کر چکے ہیں۔

بار بار ہونے والے حملے فوجی کشیدگی میں اضافے کے سوالات کو جنم دیتے ہیں۔

فوجی تجزیہ کار عالمی تیل کی منڈیوں پر اثر انداز ہونے والے ممکنہ اضافے کی وارننگ دیتے ہیں۔

جاری کشیدگی کے باوجود، سفارتی حل مشکل نظر آتے ہیں۔

یہ صورت حال مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست کی نازک حالت کو اجاگر کرتی ہے۔

UAE کی حکام نے اپنی کشتیوں کے لیے سیکیورٹی کے اقدامات کو بڑھانے کی خبر دی ہے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر علاقے میں ضبط نفس کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔

بین الاقوامی برادری مسلسل فریقین کے درمیان بات چیت کی ضرورت پر زور دے رہی ہے۔

لیکن، ایسے واقعات امن کی کوششوں کو متاثر کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔

یہ ایک ترقی پذیر کہانی ہے اور جیسے جیسے تفصیلات سامنے آئیں گی، اسے اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

مستقبل کے اثرات میں تیل کی تجارت میں مزید خلل شامل ہو سکتا ہے۔

بار بار ہونے والے واقعات کے حل کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی ضرورت ہے۔