اسلام آباد: امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک خطرناک سطح پر پہنچ گئی ہے۔
حال ہی میں ہارموز کی اسٹریٹجک اہمیت کے حامل علاقے میں ہونے والے حملوں نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔
ایران نے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، ان پر ایرانی احکامات کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔
جواب میں، امریکہ نے ایران کے اندر گہرائی میں موجود میزائل مقامات اور ساحلی ریڈارز پر شدید فضائی حملے کیے۔
ایران کی جوابی کارروائی تیز تھی، جس میں مشرق وسطیٰ میں متعدد امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائل حملے شامل تھے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیا، یہ بتاتے ہوئے کہ اگر یہ کارروائیاں جاری رہیں تو سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
ایک عوامی اجتماع کے دوران “لبنان کو دوبارہ عظیم بناؤ” کے نعرے نے ٹرمپ کی جانب سے حیران کن ردعمل کو جنم دیا، جو کہ امریکہ کی علاقائی حرکیات کے لیے عزم کی علامت ہے۔
ہارموز کا تنگ راستہ عالمی تیل کی فراہمی کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے، جس کی وجہ سے یہ جھڑپیں خاص طور پر تشویش ناک ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق، دنیا کی تقریباً 20% پیٹرولیم اس تنگ آبی راستے سے گزرتی ہے، جو اس کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
یہ بڑھتی ہوئی کشیدگی موجودہ امن کی کوششوں کو چیلنج کرتی ہے اور مشرق وسطیٰ میں وسیع تر تنازع کے خطرے کو بڑھاتی ہے۔
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی فوجی تیاری کو ان خطرات کے جواب میں بڑھا دیا گیا ہے۔
عالمی ردعمل متنوع ہیں، کچھ ممالک کشیدگی کم کرنے کی اپیل کر رہے ہیں جبکہ بین الاقوامی اقتصادی اثرات کے خدشات بھی موجود ہیں۔
ایران کی انقلابی گارڈ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات دفاعی ہیں، جو امریکہ کی طرف سے محسوس کی جانے والی جارحیت کا جواب ہیں۔
بی بی سی نے علاقائی سیکیورٹی اور استحکام کے بارے میں بڑھتی ہوئی عدم یقینی کو اجاگر کیا ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے ایران کو “مٹا دینے” کی دھمکی نے جاری سفارتی کوششوں کو ایک خطرناک موڑ دیا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے ممالک احتیاط کی اپیل کر رہے ہیں، انتباہ دیتے ہوئے کہ مزید کشیدگی بے قابو ہو سکتی ہے۔
یورپی اتحادیوں کی جانب سے دونوں فریقین کو مذاکرات میں مشغول ہونے اور مزید دشمنی سے بچنے کی اپیل کی جا رہی ہے، جیسا کہ روئٹرز نے رپورٹ کیا ہے۔
یہ ایک ترقی پذیر کہانی ہے، اور بین الاقوامی برادری قریب سے دیکھ رہی ہے کہ واقعات کیسے unfold ہوتے ہیں۔
مستقبل کے مضمرات غیر یقینی ہیں، فوری امن یا حل کے لیے کوئی واضح راستے نظر نہیں آ رہے۔
سوالات یہ ہیں کہ بین الاقوامی برادری مزید کشیدگی کو کم کرنے میں کتنی دیر تک کامیاب ہو سکتی ہے۔
