اسلام آباد:]
اسلام آباد: ہفتہ کی شام کو 5.7 شدت کا زلزلہ اسلام آباد اور اس کے قریبی علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
گوگل زلزلہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق یہ جھٹکا تقریباً شام 7:15 بجے آیا۔
اسلام آباد اور اس کے آس پاس کے رہائشیوں نے زمین کے لرزنے پر خوف کا اظہار کیا۔
ابتدائی جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ زلزلے کا مرکز پاکستان کے شمالی علاقوں میں تھا۔
پاکستانی زلزلہ ماہرین مکمل اثرات کا اندازہ لگانے اور ممکنہ بعد کے جھٹکوں کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔
اگرچہ فوری طور پر کوئی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، مگر کچھ علاقوں میں عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔
ایمرجنسی خدمات ہائی الرٹ پر ہیں اور بچاؤ اور ریلیف آپریشن کے لیے بھیجی گئی ہیں۔
مقامی حکام کے مطابق اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں عمارتوں میں واضح دراڑیں پڑی ہیں۔
عوامی خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ عمارتیں چھوڑ کر کھلی جگہوں پر جمع ہونے لگے۔
اس پر وزیر اعظم شہباز شریف نے شہریوں سے پرسکون رہنے کی اپیل کی اور حکومت کی حمایت کا یقین دلایا۔
زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی کا جائزہ لینے کے لیے مزید معائنہ جاری ہے۔
یہ تازہ جھٹکا اس جاری زلزلہ سرگرمی کا حصہ ہے جو کبھی کبھار اس علاقے کو متاثر کرتی ہے۔
علاقے کی جیولوجیکل تشکیل اسے زلزلوں کے لیے حساس بناتی ہے، جس سے تیاری کے بارے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
ماہرین نے رہائشیوں کو ذاتی حفاظتی تدابیر اور ایمرجنسی تیاری کو یقینی بنانے کی تجویز دی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زلزلے کے اثرات کے بارے میں ذاتی کہانیاں اور ویڈیو فوٹیج کی بھرمار ہو گئی ہے۔
سرکاری وسائل اہم معلومات اور تازہ ترین اپ ڈیٹس عوام تک پہنچانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
اس واقعے نے زلزلہ متاثرہ علاقوں میں شہری منصوبہ بندی اور عمارتوں کی مضبوطی کے بارے میں بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔
حکام نے زلزلہ کی حفاظت کے قوانین اور جدید عمارت کے کوڈز پر عمل کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خطرات کو کم کرنے کے لیے قدرتی آفات کے انتظام کے اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔
جبکہ فوری صورتحال کنٹرول میں ہے، تو توجہ مستقبل کی مضبوطی کے لیے طویل مدتی حکمت عملیوں پر منتقل ہو گئی ہے۔
یہ ایک ترقی پذیر کہانی ہے، اور جیسے جیسے نئی معلومات دستیاب ہوں گی، اپ ڈیٹس فراہم کی جائیں گی۔
