اسلام آباد: پاکستان عالمی ڈرون مارکیٹ کو اقتصادی اور تکنیکی ترقی کے لیے ایک اسٹریٹجک موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
جغرافیائی تجزیہ کار اور سابق پروفیسر، طاہر نذیر، کا ماننا ہے کہ پاکستان اس ابھرتے ہوئے شعبے میں ایک بڑا کھلاڑی بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
وہ اس مقصد کے حصول کے لیے منظم سرمایہ کاری اور مضبوط حکمت عملیوں کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
ایک امید افزا منظرنامہ
عالمی ڈرون مارکیٹ تیزی سے پھیل رہی ہے، جس کی وجہ ٹیکنالوجی کی جدت اور مختلف شعبوں میں بڑھتی ہوئی طلب ہے۔
MarketWatch کے مطابق، عالمی ڈرون مارکیٹ 2026 تک 58.4 بلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
یہ پیش گوئی پاکستان جیسے ابھرتے ہوئے ممالک کے لیے ایک منافع بخش موقع فراہم کرتی ہے۔
اسٹریٹجک سرمایہ کاری کی ضرورت
طاہر نذیر نے یہ بات واضح کی ہے کہ پاکستان کو مضبوط مارکیٹ کی پوزیشن حاصل کرنے کے لیے اسٹریٹجک سرمایہ کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ جدید ڈرون ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے سرمایہ اور ماہر مہارت دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
پاکستان کی حکومت پہلے ہی ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی میں سرمایہ کاری کر رہی ہے، جس کا مقصد علاقائی حریفوں کے ساتھ قدم ملانا ہے۔
موثر حکمت عملیوں کا کردار
مالی سرمایہ کاری کے علاوہ، تیزی سے ترقی پذیر ڈرون شعبے میں حکمت عملی کی منصوبہ بندی بھی ضروری ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری پر توجہ دینی چاہیے۔
ایسی شراکتیں مقامی صلاحیتوں کی ترقی کو تیز کر سکتی ہیں۔
علاقائی قیادت کا امکان
پاکستان کی جغرافیائی اسٹریٹجک حیثیت اسے ڈرون پیداوار میں علاقائی رہنما بننے کے لیے منفرد فوائد فراہم کرتی ہے۔
ایشیا اور مشرق وسطی کے اہم مارکیٹوں کے قریب ہونے کی وجہ سے تقسیم اور کلائنٹ کے ساتھ رابطہ آسان ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہدف شدہ پالیسی فریم ورک کے ذریعے، پاکستان اپنی حیثیت کا فائدہ اٹھا کر اپنے اثر و رسوخ کو بڑھا سکتا ہے۔
چیلنجز اور غور و فکر
ممکنات کے باوجود، پاکستان کو عالمی مارکیٹ میں کامیابی کے لیے کئی اہم چیلنجز کا سامنا کرنا ہے۔
ریگولیٹری فریم ورک اور بین الاقوامی مقابلے کے بارے میں خدشات کا احتیاط سے سامنا کرنا ضروری ہے۔
نذیر نے خبردار کیا ہے کہ صرف جدت کے لیے مستقل عزم ہی پاکستان کی مسابقت کو یقینی بنا سکتا ہے۔
یہ ایک ترقی پذیر کہانی ہے، جو پاکستان کی ڈرون صنعت میں عزائم کی ترقی کو ظاہر کرتی ہے۔
جاری ترقیات پاکستان کے اس مقابلہ جاتی میدان میں کردار کی سمت کو شکل دیتی رہیں گی۔
مشاہدین یہ دیکھنے کے لیے بے چینی سے منتظر ہیں کہ پاکستان ان رکاوٹوں سے کیسے نمٹے گا اور آنے والے مواقع کو کیسے سنبھالے گا۔
