Follow
WhatsApp

کیا امریکہ نے پاکستان کو نیٹین یاہو کے ایران معاہدے کو روکنے کا وعدہ کیا؟

کیا امریکہ نے پاکستان کو نیٹین یاہو کے ایران معاہدے کو روکنے کا وعدہ کیا؟

سابق سی آئی اے اہلکار کا پاکستان کو ایران پر یقین دہانی کا دعویٰ۔

کیا امریکہ نے پاکستان کو نیٹین یاہو کے ایران معاہدے کو روکنے کا وعدہ کیا؟

اسلام آباد: ایک سابق سی آئی اے اہلکار نے امریکہ اور پاکستان کے سفارتی مذاکرات کے بارے میں ایک حیران کن دعویٰ کیا ہے۔

سی. جانسن، اس سابق اہلکار نے الزام لگایا کہ امریکہ نے پاکستان کو یقین دلایا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیٹین یاہو کو ایران کے جوہری معاہدے کو سبوتاژ کرنے سے روکے گا۔

جانسن کے بیانات نے خاصی دلچسپی پیدا کی ہے اور امریکہ کی سفارتی چالوں کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں۔

ایران کا جوہری معاہدہ، جسے باقاعدہ طور پر جوائنٹ کمپریہنسو پلان آف ایکشن (JCPOA) کہا جاتا ہے، کئی سالوں سے ایک متنازعہ موضوع رہا ہے۔

نیٹین یاہو اس معاہدے کے سخت ناقد رہے ہیں، اور انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ اسرائیل کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہے۔

سابق سی آئی اے اہلکار نے یہ یقین دہانیاں ایک نجی تقریب میں بیان کیں، جس میں سفارتی اور اسٹریٹجک تجزیہ کار شامل تھے۔

جانسن نے مزید کہا کہ تمام ممالک کے درمیان جو ثالثی میں شامل تھے، ایران نے صرف پاکستان پر اعتماد کیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے ان مذاکرات میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم ثالث کا کردار ادا کیا۔

جانسن کے دعووں کی صداقت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، کیونکہ محدود ذرائع اس گفتگو کی تفصیلات کی تصدیق کرتے ہیں۔

یہ صورتحال پاکستان کے مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست میں اثر و رسوخ کے بارے میں سوالات اٹھاتی ہے۔

مشاہدین یہ دیکھنے کے لیے بے چین ہیں کہ یہ انکشافات امریکہ-اسرائیل تعلقات پر کس طرح اثر انداز ہوں گے، خاص طور پر سیکیورٹی تعاون کے حوالے سے۔

امریکہ نے اسرائیل کی حمایت اور ایران کے ساتھ سفارتی حل تلاش کرنے کے درمیان ایک نازک توازن برقرار رکھا ہوا ہے۔

یہ پیش رفت ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے ممکنہ دوبارہ ابھرنے کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سامنے آئی ہے۔

سفارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مزید انکشافات واشنگٹن میں پالیسی بحثوں کو دوبارہ شکل دے سکتے ہیں۔

اگر یہ وعدے سچے ہیں تو ان کے اثرات علاقائی حرکیات پر نمایاں طور پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

بحث کے قریب ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بات چیت خفیہ طور پر کی گئی تاکہ سفارتی راز داری برقرار رہے۔

یہ ترقی پذیر کہانی ہے، اور جیسے جیسے مزید معلومات سامنے آئیں گی، جغرافیائی منظر نامہ میں تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔

اب ممکنہ مزید انکشافات پر نظریں مرکوز ہیں، بین الاقوامی برادری ابھرتی ہوئی تفصیلات پر توجہ دے رہی ہے۔