اسلام آباد: امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے حوالے سے فوجی حکمت عملی پر ایک بڑا دھچکا دیا ہے۔
ایوان نے ایک قرارداد منظور کی ہے جو ٹرمپ کے یکطرفہ فوجی اقدامات کو محدود کرنے کے لیے ہے۔
یہ پیشرفت ریپبلکن پارٹی کے کچھ ارکان میں تہران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ قرارداد 215 ووٹوں کی حمایت اور 208 کے مخالفت سے منظور ہوئی، جو ایک تنگ فرق کو ظاہر کرتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ چار ریپبلکن ارکان نے اپنی پارٹی سے الگ ہوکر ڈیموکریٹس کی حمایت کی۔
نمائندگان ٹام بیریٹ، وارن ڈیوڈسن، برائن فٹزپATRICK، اور تھامس میسی نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر یہ تحفظات ظاہر کیے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، اگرچہ قرارداد کا فوری قانونی اثر محدود ہے، یہ ایران کے ساتھ کسی بھی مستقبل کی فوجی کارروائی کے لیے کانگریسی مینڈیٹ کا مطالبہ کرتی ہے۔
تاریخی طور پر، ایسی قراردادیں ایوان میں ناکام رہی ہیں، لیکن حالیہ ووٹ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کو اجاگر کرتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق، ایک متعلقہ اقدام پچھلے ماہ سینیٹ میں ابتدائی ترقی حاصل کر چکا ہے۔
اگرچہ ماضی کی کوششیں بار بار ناکام ہوئی ہیں، موجودہ رفتار سیاسی حرکیات میں تبدیلی کا اشارہ دیتی ہے۔
این بی سی نیوز کے مطابق، سات قانون سازوں نے ووٹ میں شرکت سے گریز کیا، جو پیچیدہ سیاسی تعامل میں ایک اور پہلو شامل کرتا ہے۔
ایوان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے ایگزیکٹو جنگی اختیارات پر قانونی چیکز کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ اقدام ٹرمپ کے فیصلہ سازی کے عمل پر وسیع پیمانے پر نظر ثانی کے درمیان آیا ہے، جس میں ان کی اپنی پارٹی سے مزاحمت بھی شامل ہے۔
ایک علیحدہ اقدام، یوکرین سپورٹ ایکٹ، بھی اسی دن حمایت حاصل کر رہا ہے، جو یوکرین کے لیے سیکیورٹی امداد کو بڑھاتا ہے۔
اس ایکٹ کو چھ ریپبلکنز کی حمایت ملی، جو روسی جارحیت کے خلاف دو جماعتی حمایت کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ قرارداد ٹرمپ کی قومی انٹیلی جنس حلقوں میں تقرریوں کے انتخاب پر تنقید کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
اس اقدام نے اہم سیکیورٹی کرداروں کے لیے نامزد افراد کی قابلیت پر بحث چھیڑ دی ہے۔
جبکہ کشیدگی برقرار ہے، یہ قانونی اقدام ٹرمپ کی سیاسی بنیاد میں بڑھتی ہوئی دراڑوں کو اجاگر کرتا ہے۔
سینیٹ میں آئندہ اجلاس اس unfolding منظر نامے میں اگلے اقدامات کا تعین کریں گے۔
یہ قرارداد امریکہ-ایران تعلقات میں ایک اہم لمحہ ہے، جو واشنگٹن میں طاقت کے نازک توازن کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ ایک ترقی پذیر کہانی ہے۔
