اسلام آباد:
امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ کویتی فضائی دفاع نے 27 مئی کو ایک ایرانی بیلسٹک میزائل کو کامیابی سے روکا جو کہ کویت میں ایک امریکی فوجی تنصیب کی طرف بڑھ رہا تھا۔
یہ واقعہ مشرقی وقت کے مطابق رات 10:17 بجے پیش آیا، چند گھنٹے بعد جب ایرانی افواج نے ہرمز کے تنگے کے قریب پانچ ایک طرفہ حملہ کرنے والے ڈرونز تعینات کیے تھے۔ سینٹ کام نے اس میزائل کے حملے کو “بہت سنگین جنگ بندی کی خلاف ورزی” قرار دیا۔
میزائل حملے میں کوئی بڑی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ کویتی پیٹریاٹ سسٹمز نے اس پروجیکٹائل کا سامنا کیا، جس کی وجہ سے علی السالم ایئر بیس پر براہ راست اثر نہیں ہوا، جہاں امریکی افواج موجود ہیں۔
پاکستانی حکام اس واقعے کی ترقیات پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اسلام آباد کی خلیج کی استحکام میں اہم دلچسپیاں ہیں اور علاقائی تناؤ کم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششیں ہیں۔
**سرکاری بیانات**
سینٹ کام نے کہا کہ کویتی افواج نے خطرے کا فوری طور پر مقابلہ کیا۔ کمان نے اس حملے کو پہلے کے امریکی دفاعی حملوں سے جوڑا جو ایرانی ڈرون کنٹرول سائٹس پر بندر عباس کے قریب کیے گئے تھے۔
“امریکی سینٹرل کمانڈ اور علاقائی شراکت دار اپنی افواج اور مفادات کی غیر منصفانہ ایرانی جارحیت سے دفاع کے لیے چوکس اور متوازن رہتے ہیں،” بیان میں مزید کہا گیا۔
کویتی حکام نے اس واقعے کی مذمت کی اور اسے ایرانی کارروائیوں کی تکرار کا حصہ قرار دیا۔ ایران نے کویت کو نشانہ بنانے والے مخصوص حملے کی سرکاری تصدیق نہیں کی ہے۔
**اہم ڈیٹا اور اعداد و شمار**
میزائل جو شامل تھا، وہ ایک فاتح-110 ورژن سمجھا جاتا ہے جس کی رینج تقریباً 300 کلومیٹر ہے۔ ایرانی سرزمین سے کویت کے اہداف تک پرواز کا وقت پانچ منٹ سے کم ہونے کا تخمینہ ہے۔
کویتی پیٹریاٹ PAC-3 بیٹریوں نے اس کی روک تھام کی۔ رپورٹس کے مطابق، گرنے والے ملبے سے تقریباً پانچ امریکی اہلکاروں اور ٹھیکیداروں کو معمولی چوٹیں آئیں، جن میں سے سب نے 24 گھنٹوں کے اندر دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ گئے۔
یہ واقعہ اس کے بعد پیش آیا جب امریکی افواج نے جنوبی ایران اور قشم جزیرے میں ایرانی ریڈار اور کمانڈ سائٹس پر حملے کیے۔ اس سے پہلے، ہرمز کے تنگے کے قریب پانچ ایرانی ڈرونز کو مار گرایا گیا، جو کہ عالمی تیل کی تجارت کا 21 فیصد ہینڈل کرتا ہے۔
عارضی جنگ بندی، جو کہ اپریل 2026 میں علاقائی شراکت داری کے ساتھ کی گئی تھی، اب نئے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔
**پس منظر**
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی جوہری مسائل، علاقائی پراکسیز، اور خلیج میں نیویگیشن کی آزادی کے حوالے سے جاری رہی ہے۔ کویت میں کئی اہم امریکی بیسیں موجود ہیں، جن میں علی السالم شامل ہے، جو فضائی کارروائیوں کی حمایت کرتا ہے اور ملک میں تقریباً 13,000 امریکی فوجیوں کی میزبانی کرتا ہے جو کہ سینٹ کام کی موجودگی کا حصہ ہیں۔
اس سال کے دوران ہونے والے تبادلے میں کویتی تنصیبات پر ایرانی ڈرون حملے اور امریکی جوابی کارروائیاں شامل تھیں۔ پاکستان دونوں خلیجی عرب ریاستوں کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھتا ہے اور توانائی کی راہوں اور غیر ملکی مزدوروں پر اثر انداز ہونے والے وسیع تنازعے سے بچنے کے لیے بات چیت کی وکالت کرتا ہے۔
**ردعمل اور اثرات**
خلیج تعاون کونسل کے اراکین نے اس خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اقتصادی بحالی کے تحفظ کے لیے ضبط و تحمل کی اپیل کی۔ رپورٹوں کے بعد ابتدائی تجارت میں تیل کی قیمتیں 2.8 فیصد بڑھ گئیں، پھر مستحکم ہو گئیں۔
پاکستان میں، دفاعی تجزیہ کاروں نے اس واقعے کے اثرات پر غور شروع کر دیا ہے۔
