اسلام آباد:
پاکستان نے ایک بل منظور کیا ہے جس کے تحت اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادیں ضبط کی جائیں گی جو مسلح افواج کی توہین میں ملوث ہیں۔
سابق رکن قومی اسمبلی مائزہ حمید نے اس پیشرفت کی تصدیق کی اور اسے قومی اداروں کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔
یہ قانون ان افراد کو نشانہ بناتا ہے جو غیر ملکی ممالک سے پاکستان آرمی کے خلاف پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں۔
اس کا مقصد ایسی سرگرمیوں کو روکنا ہے جو ریاست کی سیکیورٹی اور اداروں کی سالمیت کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
حکومت کی جانب سے بل کی عین دفعات کے بارے میں کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میں اثاثوں کی شناخت اور قانونی کارروائی کے طریقہ کار شامل ہیں۔
**سرکاری بیانات**
مائزہ حمید، جو پہلے قومی اسمبلی میں خدمات سر انجام دے چکی ہیں، نے کہا کہ یہ بل فوج کے خلاف منظم مہمات کے بڑھتے ہوئے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے منظور کیا گیا۔
انہوں نے زور دیا کہ ایسے اقدامات قومی دفاع میں اہم کردار ادا کرنے والے ادارے کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں۔
سینئر حکومتی اہلکاروں نے تفصیلی تبصرے جاری نہیں کیے، لیکن یہ اقدام فوجی ترجمانوں کی جانب سے ہائبرڈ خطرات، بشمول معلوماتی جنگ، کے بارے میں بار بار دی گئی تنبیہات کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
**اہم دفعات اور دائرہ**
یہ بل حکام کو پاکستان میں موجود پاکستانی شہریوں یا دوہری شہریت کے حامل افراد کی متحرک اور غیر متحرک اثاثے ضبط کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
یہ ان معاملات پر توجہ مرکوز کرتا ہے جہاں افراد کو میڈیا، سوشل پلیٹ فارمز، یا منظم مہمات کے ذریعے منظم توہین میں ملوث پایا جاتا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عمل میں انٹیلی جنس کی تصدیق شامل ہوگی، جس کے بعد متعلقہ قوانین کے تحت عدالت کی کارروائی ہوگی، بشمول موجودہ پراپرٹی اور انسداد دہشت گردی کے قوانین میں ترامیم۔
**پس منظر**
پاکستان نے اپنی مسلح افواج کے خلاف بڑھتے ہوئے آن لائن مہمات کا سامنا کیا ہے، خاص طور پر 2022-2023 کی سیاسی پیشرفتوں کے بعد۔
ایسی بہت سی اکاؤنٹس یورپ، برطانیہ، اور شمالی امریکہ سے کام کر رہی ہیں۔
فوج نے دہشت گردی کے خلاف متعدد آپریشنز کیے ہیں، جن میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کامیاب کارروائیاں شامل ہیں، جس سے حالیہ سالوں میں شدت پسند واقعات میں 40 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔
تاہم، ان کامیابیوں کو منفی بیانیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، جو اکثر ممنوعہ گروہوں اور ان کے ہمدردوں سے جڑے ہوتے ہیں۔
**اعداد و شمار**
10 ملین سے زیادہ پاکستانی بیرون ملک رہائش پذیر ہیں، جن کی ترسیلات زر مالی سال 2024-25 میں 31.2 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جو جی ڈی پی میں تقریباً 9 فیصد کا حصہ ڈالتی ہیں۔
بیرون ملک پاکستانیوں کی لاہور، کراچی، اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں جائیداد کی ملکیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں سرمایہ کاری کا تخمینہ اربوں روپے ہے۔
2025 میں، حکام نے ریاستی اداروں کے خلاف آن لائن پروپیگنڈے کے 1,200 سے زیادہ کیسز ریکارڈ کیے، جن میں سے ایک بڑی تعداد غیر ملکی اکاؤنٹس سے آئی۔
سرحدی انتظام اور داخلی سلامتی کی کارروائیوں کے نتیجے میں 2025-26 میں 378 دہشت گردوں کا خاتمہ ہوا، جبکہ پاکستان آرمی نے متعلقہ کارروائیوں میں 112 اہلکاروں کو کھویا۔
**ردعمل اور آئندہ کے اقدامات**
