Follow
WhatsApp

ایران جوہری مذاکرات ملتوی، اسرائیل نے اعتراضات اٹھائے

ایران جوہری مذاکرات ملتوی، اسرائیل نے اعتراضات اٹھائے

ایران کے جوہری مذاکرات علاقائی کشیدگی کے باعث ملتوی ہوئے۔

ایران جوہری مذاکرات ملتوی، اسرائیل نے اعتراضات اٹھائے

اسلام آباد: ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت ایک برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ملتوی کر دی گئی ہے، کیونکہ اسرائیل کسی بھی نئے معاہدے میں لبنان کی شمولیت پر اعتراضات اٹھانے کی تیاری کر رہا ہے۔

یہ پیش رفت جاری علاقائی جنگ بندی کے انتظامات اور حالیہ تنازعات کے بعد صورتحال کو مستحکم کرنے کی کوششوں کے درمیان ہوئی ہے، جن میں ایران، اسرائیل، اور لبنان میں حزب اللہ شامل ہیں۔

ایک برطانوی میڈیا ادارے نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جوہری مذاکرات کو بعد کے مراحل کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے، جبکہ اسرائیل نے لبنان سے متعلقہ شقوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے جو امریکہ-ایران سمجھوتوں میں شامل ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے یہ تحفظات براہ راست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تک پہنچائے، جو بنیادی جوہری مسائل کے مؤخر ہونے اور لبنان کے معاملے کے حل پر مرکوز ہیں۔

**سرکاری موقف**

ایران نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور کسی بھی رعایت کے بدلے پابندیوں میں نرمی کا مطالبہ کیا ہے۔ تہران نے فوری جنگ بندی اور اقتصادی مسائل کو حل کرنے پر زور دیا ہے، اس سے پہلے کہ وہ گہرے جوہری مباحثوں میں داخل ہو۔

امریکہ، صدر ٹرمپ کی قیادت میں، نے اہم کمی کا مطالبہ کیا ہے، جس میں ایران کے ہائیلی اینرچڈ یورینیم کے ذخیرے کو ختم یا کم کرنے اور اینرچمنٹ کی سرگرمیوں پر پابندیاں شامل ہیں۔ ٹرمپ نے پہلے بعض ایرانی تجاویز کو ناکافی قرار دیا تھا۔

اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے اہداف کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی اس کی ایرانی حمایت یافتہ گروپ کے خلاف کارروائیوں تک مکمل طور پر نہیں پہنچتی۔

**اہم تفصیلات اور اعداد و شمار**

ایران کا یورینیم کا ذخیرہ جو ہتھیاروں کے معیار کے قریب ہے، ایک مرکزی تنازعہ کا نقطہ رہا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق ایران کے پاس 60% اینرچڈ یورینیم کی بڑی مقدار موجود ہے، جسے مزید پروسیس کیا جا سکتا ہے۔

پچھلے غیر مستقیم مذاکرات کے دور، جن میں عمان اور جنیوا میں ہونے والے مذاکرات شامل تھے، میں اینرچمنٹ کی حدوں پر محدود پیش رفت ہوئی۔ 2015 کا JCPOA نے 3.67% تک اینرچمنٹ کی اجازت دی تھی، جو ایران نے حالیہ برسوں میں تجاوز کر لی ہے۔

زیر بحث مجوزہ فریم ورک میں ممکنہ 60 دن کی جنگ بندی کی توسیع اور ہارموز کے آبنائے سے متعلق اقدامات شامل ہیں، جہاں سے عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً 20% گزرتا ہے۔

لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں، لبنانی صحت کے حکام نے کچھ ادوار میں 1,000 سے زائد اموات کی اطلاع دی ہے۔ حزب اللہ ایک اہم کردار ہے جس کے پاس ہزاروں راکٹوں کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

**پس منظر**

کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب 2025 اور 2026 کے اوائل میں اسرائیلی اور امریکی حملے ایرانی جوہری مقامات پر ہوئے۔ ان کارروائیوں نے نطنز، فردو، اور اصفہان میں سہولیات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایران کی اینرچمنٹ کی صلاحیتوں پر نمایاں اثر پڑا۔

ای3 (برطانیہ، فرانس، جرمنی)، عمان، اور دیگر ثالثوں کے ساتھ سفارتی کوششیں وقفے وقفے سے جاری رہی ہیں۔ پاکستان نے کچھ متعلقہ مذاکرات کی میزبانی کی ہے، جو اس کی علاقائی استحکام میں دلچسپی کو اجاگر کرتا ہے، خاص طور پر اس کی اپنی سیکیورٹی کی تشویشات اور اہم کھلاڑیوں کے ساتھ تعلقات کے پیش نظر۔