Follow
WhatsApp

ایران نے ⁦24⁩ ارب ڈالر کی منجمد رقوم کی رہائی کا مطالبہ کیا

ایران نے ⁦24⁩ ارب ڈالر کی منجمد رقوم کی رہائی کا مطالبہ کیا

ایران نے امریکہ سے مذاکرات کے لیے ⁦24⁩ ارب ڈالر کی منجمد رقوم کا مطالبہ کیا۔

ایران نے ⁦24⁩ ارب ڈالر کی منجمد رقوم کی رہائی کا مطالبہ کیا

اسلام آباد: ایرانی مذاکرات کار 24 ارب ڈالر کی منجمد رقوم کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی جانب پیش رفت کی جا سکے، جس میں قطر بنیادی ثالث کے طور پر کام کر رہا ہے۔

یہ مطالبہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری غیر براہ راست بات چیت کے دوران سامنے آیا ہے، جہاں محدود فنڈز تک رسائی ایک اہم مسئلہ بن گئی ہے۔

قطری حکام ان مذاکرات کو آسان بنانے میں مصروف ہیں، تاکہ پابندیوں میں نرمی اور مالی رسائی کے بارے میں اختلافات کو دور کیا جا سکے۔

ایرانی ذرائع کے مطابق، 24 ارب ڈالر مختلف بین الاقوامی بینکوں میں منجمد اثاثوں کا ایک بڑا حصہ ہے، جن میں قطر میں موجود رقوم بھی شامل ہیں۔

تہران ان رقوم تک یقینی رسائی کو کسی بھی ابتدائی سمجھوتے میں اعتماد کی تعمیر کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔

ایک اعلیٰ ایرانی اہلکار نے اس رہائی کو مذاکرات میں امریکہ کی سنجیدگی کا ایک پیمانہ قرار دیا۔

یہ بات چیت ایک ابتدائی مفاہمت نامے پر مرکوز ہے جو وسیع پیمانے پر کشیدگی میں کمی کے لیے اقدامات کی وضاحت کر سکتی ہے۔

ایران نے اصرار کیا ہے کہ رقوم کی حقیقی منتقلی کے طریقے کسی بھی معاہدے کے پہلے مرحلے میں فعال ہونے چاہئیں۔

**سرکاری موقف**

ایرانی مذاکرات کاروں نے ترقی کے لیے فوری طور پر ایک بڑی رقم کی دستیابی کو پیشگی شرط بنا دیا ہے۔

قطر نے خود کو ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر پیش کیا ہے، اہم ملاقاتوں اور فنڈز کی منتقلی پر تکنیکی بحثوں کی میزبانی کر رہا ہے۔

امریکی حکام نے عوامی طور پر درست رقم کی تصدیق نہیں کی ہے لیکن پابندیوں سے متعلق امور پر جاری مصروفیت کو تسلیم کیا ہے۔

پاکستانی سفارتی حلقے جو علاقائی ترقیات پر نظر رکھے ہوئے ہیں، خلیج کی استحکام اور توانائی کی منڈیوں پر ممکنہ اثرات کا ذکر کر رہے ہیں۔

**اہم اعداد و شمار**

رپورٹس کے مطابق ایران کے پاس دنیا بھر میں 100 ارب ڈالر سے زائد کی منجمد رقوم ہیں، جن میں سے بڑی تعداد قطر اور یورپی بینکوں میں موجود ہے۔

موجودہ مطالبہ ابتدائی رہائی کے لیے 24 ارب ڈالر کا ہدف رکھتا ہے، جو کہ 2023 میں کیے گئے ایک پچھلے انتظام کے بعد ہے جس میں 6 ارب ڈالر سخت انسانی استعمال کی حدود کے تحت منتقل کیے گئے تھے۔

ایسی رقوم کی منتقلی کے عمل میں عام طور پر تکنیکی اور تعمیل چیک کے لیے 30 سے 45 دن درکار ہوتے ہیں۔

ایران کی معیشت نے حالیہ برسوں میں 30 فیصد سے زیادہ کی سالانہ افراط زر کی شرح کا سامنا کیا ہے، جس سے ان ذخائر تک رسائی کرنسی اور درآمدات کو مستحکم کرنے کے لیے اہم ہو گئی ہے۔

تیل کی برآمدی آمدنی، جو پابندیوں کی وجہ سے محدود ہے، صنعت کے تخمینے کے مطابق مکمل طور پر فعال ہونے پر سالانہ تقریباً 40-50 ارب ڈالر ہوتی ہے۔

**پس منظر**

ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ 2018 میں مشترکہ جامع منصوبے سے نکلنے کے بعد سے جاری ہے۔

اس کے بعد کی پابندیوں نے ایران کی غیر ملکی کرنسی کے ذخائر تک رسائی کو شدید محدود کر دیا۔

قطر نے 2023 میں محدود استعمال کے لیے ایرانی رقوم کی منتقلی میں ایک نمایاں کردار ادا کیا۔

مذاکرات کا یہ دور 2026 کے اوائل میں تیز ہوا، جب غیر براہ راست چینلز کئی خلیجی مقامات پر فعال ہوئے۔

**ردعمل اور اثرات**

علاقے کی منڈیوں نے محتاط ردعمل دکھایا ہے، جبکہ تیل کی قیمتیں ممکنہ پابندیوں میں نرمی کی قیاس آرائیوں کے درمیان متغیر ہو رہی ہیں۔

خلیجی ریاستیں قریب سے نگرانی کر رہی ہیں۔