Follow
WhatsApp

امریکہ کی خود دفاعی کارروائی، ایرانی اہداف پر حملے

امریکہ کی خود دفاعی کارروائی، ایرانی اہداف پر حملے

پینٹاگون نے ایرانی میزائل مقامات اور کشتیوں پر حملوں کی تصدیق کی

امریکہ کی خود دفاعی کارروائی، ایرانی اہداف پر حملے

اسلام آباد:

امریکی فورسز نے جنوبی ایران میں ایرانی اہداف پر خود دفاعی حملے کیے ہیں، پینٹاگون نے تصدیق کی ہے۔

یہ کارروائی میزائل لانچنگ مقامات اور ایرانی کشتیوں کو نشانہ بناتی ہے جو ہارموز کے تنگے کے قریب سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں، امریکی سینٹرل کمانڈ کے بیانات کے مطابق۔

پینٹاگون کے اہلکاروں نے اس کارروائی کو امریکی بحری اثاثوں کے خلاف خطرات کے جواب میں براہ راست اقدام قرار دیا۔ ابتدائی تبادلے میں کوئی امریکی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

یہ حملے بندر عباس اور قریبی ساحلی علاقوں میں ہوئے، جو اہم ایرانی بحری سہولیات کا گھر ہیں۔ امریکی اہلکاروں نے کہا کہ ہدف اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کی تیز رفتار حملہ آور کشتیوں اور متعلقہ میزائل بنیادی ڈھانچے پر مشتمل تھا۔

**امریکی سینٹرل کمانڈ** نے بیان دیا کہ ایرانی جہازوں نے امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا اور بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کی جو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرہ بن گئی۔ جواب میں فوری خطرات کو ختم کرنے کے لیے درست نشانہ لگانے والے حملے کیے گئے۔

فوجی ذرائع نے اشارہ دیا کہ جھڑپ کے دوران متعدد ایرانی تیز رفتار کشتیوں کو تباہ کیا گیا۔ یہ کارروائی ہارموز کے تنگے کو محفوظ بنانے کی جاری کوششوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جس کے ذریعے روزانہ عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے ابھی تک سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں، لیکن علاقائی رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ ساحلی سہولیات کو محدود نقصان پہنچا ہے۔ تہران کی توقع ہے کہ وہ سفارتی چینلز یا پراکسی کارروائیوں کے ذریعے جواب دے گا۔

یہ پیشرفت ایک نازک علاقائی سیکیورٹی ماحول کے درمیان ہو رہی ہے، جس کے بعد ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان پہلے کی شدت میں اضافہ ہوا۔ ہارموز کا تنگہ ایک اہم گزرگاہ ہے، حالیہ واقعات میں بارودی سرنگوں کے خطرات اور جہازوں کی مداخلت نے ٹینکرز کے لیے انشورنس پریمیم میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں پاکستانی سفارتی ذرائع نے کسی بھی مزید شدت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے جو جنوبی ایشیا میں توانائی کی فراہمی کو متاثر کر سکتی ہے۔ پاکستان اپنی خام تیل کی ایک بڑی مقدار ہارموز کی رکاوٹوں سے متاثرہ راستوں کے ذریعے درآمد کرتا ہے۔

**پس منظر**

خلیج میں تناؤ 2026 میں وسیع تر تنازعات کے بعد جاری ہے۔ امریکی اور اتحادی فورسز نے ایرانی بحری سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے متعدد کارروائیاں کی ہیں، جن میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوششیں شامل ہیں جو 1980 کی دہائی کی تاریخی مثالوں کی بازگشت ہیں۔

تازہ ترین حملے جنوبی ایران کی ساحلی دفاعات پر مرکوز تھے نہ کہ اندرونی جوہری یا کمانڈ مقامات پر۔ اہلکاروں نے اس کارروائی کی محدود، دفاعی نوعیت پر زور دیا۔

اہم شخصیات میں امریکی بحریہ کے ڈسٹرائر شامل ہیں جنہیں میزائل، ڈرون اور چھوٹی کشتیوں کے خطرات کا سامنا تھا۔ امریکی فورسز نے ان حملوں کو کامیابی سے ناکام بنایا اور پھر لانچنگ مقامات اور کشتیوں پر جوابی حملے کیے۔

**مارکیٹ اور علاقائی اثرات**

تیل کی قیمتیں اس خبر پر فوری طور پر ردعمل ظاہر کرتی ہیں، جبکہ بینچ مارک برینٹ خام تیل کی قیمت میں سپلائی کے خطرات کے باعث اضافہ ہوا۔ تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ اگر تنگہ طویل مدتی عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے تو عالمی تجارتی بہاؤ میں روزانہ نقصانات ہو سکتے ہیں۔

خلیجی ریاستوں نے اپنی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے ہائی الرٹ کی سطح برقرار رکھی ہے۔ شپنگ کمپنیاں اپنی روٹ تبدیل کر رہی ہیں۔