اسلام آباد: پاکستان آرمی چیف فیلڈ مارشل سید اسیم منیر نے ہفتے کو تہران کا ایک اعلیٰ سطحی دورہ مکمل کیا، جسے انہوں نے “بہت ہی نتیجہ خیز” قرار دیا۔
اس دورے میں ایرانی قیادت کے ساتھ علاقائی استحکام پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے تفصیلی بات چیت کی گئی۔
مذاکرات مثبت اور تعمیری رہے، اور آخری معاہدے کی جانب حوصلہ افزا پیش رفت کی اطلاع ملی۔
فوجی ذرائع نے بتایا کہ یہ ملاقاتیں علاقائی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان جاری ثالثی کی کوششوں پر مرکوز تھیں۔
فیلڈ مارشل منیر نے دو روزہ دورے کے دوران ایران کی فوجی اور سیاسی قیادت کے ساتھ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ISPR) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں نتائج کو اہم قرار دیا گیا۔
**سرکاری بیان** پاکستان آرمی کے بیان میں یہ بات واضح کی گئی کہ دونوں طرف نے علاقائی سیکیورٹی کے ماحول کا تفصیل سے جائزہ لیا۔
فیلڈ مارشل منیر نے وسیع تر علاقے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے عزم پر زور دیا۔
ایرانی اہلکاروں نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی تعریف کی، بیان کے مطابق۔
“دونوں ممالک نے علاقائی امن سے متعلق امور پر قریبی ہم آہنگی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا،” ISPR کے بیان میں کہا گیا۔
یہ دورہ اسلام آباد اور تہران کے درمیان جاری سفارتی اور فوجی سطح کے رابطوں کا حصہ ہے۔
**پس منظر** پاکستان اور ایران کے درمیان 959 کلومیٹر کا سرحدی علاقہ ہے اور دونوں ممالک باقاعدگی سے اعلیٰ سطحی فوجی ملاقاتیں کرتے ہیں۔
گزشتہ چند سالوں میں دونوں ممالک نے سرحدی سیکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں تعاون کیا ہے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی حجم گزشتہ مالی سال میں تقریباً 2.3 بلین ڈالر رہا، جس میں نمایاں توسیع کی گنجائش موجود ہے۔
توانائی کے شعبے میں تعاون ایک اہم علاقہ ہے، خاص طور پر ایران-پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کے ذریعے، جس پر نئی بحثیں ہو رہی ہیں۔
موجودہ ثالثی کی کوششیں مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پاکستان-افغانستان سرحد پر چیلنجز کے درمیان ہو رہی ہیں۔
علاقائی سیکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے مختلف علاقائی کرداروں کے درمیان مکالمے کے لیے خود کو ایک پل کے طور پر پیش کیا ہے۔
**دورے کے دوران اہم پیش رفت** مذاکرات سے باخبر ذرائع نے بتایا کہ سرحدی انتظام اور انسداد منشیات تعاون سمیت متعدد شعبوں میں پیش رفت ہوئی۔
دونوں طرف نے مشترکہ خطرات کے خلاف انٹیلیجنس کے تبادلے کو بڑھانے کے طریقہ کار پر بات چیت کی۔
ملاقاتوں میں وسطی ایشیا، پاکستان اور ایران کے درمیان اقتصادی رابطے کے منصوبوں پر بھی گفتگو ہوئی۔
فیلڈ مارشل منیر کے وفد میں سینئر فوجی اہلکار اور اسٹریٹجک منصوبہ ساز شامل تھے۔
یہ دورہ ایرانی فوجی قیادت کی دعوت پر ہوا اور 48 گھنٹوں کے اندر مکمل کیا گیا۔
پس منظر کی بریفنگ میں فراہم کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 12 گھنٹے سے زیادہ کی رسمی اور غیر رسمی بات چیت ہوئی۔
**علاقائی اثرات** یہ ترقی اہمیت اختیار کرتی ہے کیونکہ متعدد علاقائی تنازعات جاری ہیں۔
پاکستان نے اہم کھلاڑیوں کے ساتھ امن کی کوششوں میں سرگرم رہتے ہوئے غیر جانبداری برقرار رکھی ہے۔
اسلام آباد میں سفارتی مبصرین
