اسلام آباد:]
اسلام آباد: سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن نے بھارتی فوج کے ایک کرنل کو 50 لاکھ روپے کی رشوت کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے، جو کہ دفاعی خریداری کے ٹینڈرز سے متعلق ہے۔
کرنل ہیمنشو بالی، جو مشرقی کمانڈ کے تحت کولکتہ میں آرمی آرڈیننس کور کے ساتھ تعینات تھے، کو منگل کے روز حراست میں لیا گیا۔ یہ کیس ٹینڈرز کی تقسیم میں ہیرا پھیری، غیر معیاری نمونوں کی منظوری، اور کانپور کی ایک نجی کمپنی کے لیے بڑھائے گئے بلوں کی منظوری کے الزامات پر مبنی ہے۔
سی بی آئی کی ایف آئی آر کے مطابق، ایسٹرن گلوبل لمیٹڈ کے ڈائریکٹرز نے فوجی معاہدوں میں فائدہ حاصل کرنے کے لیے رشوت دی۔ رپورٹ کے مطابق، اس سال کے آغاز میں ایک بڑا ٹینڈر اس کمپنی کو دیا گیا، جو افسر اور ٹھیکیدار کے درمیان رابطوں کے بعد ہوا۔
تحقیقات کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ افسر نے غیر قانونی فائدے کے بدلے میں سہولت فراہم کی۔ اس کیس میں کی جانے والی تلاشیاں مبینہ طور پر ایسے دستاویزات اور مالی معاملات کے ثبوت فراہم کرتی ہیں جو کہ جرم کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یہ واقعہ پاکستان میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں بھارتی دفاعی اداروں میں شفافیت کے حوالے سے خدشات بار بار اٹھائے گئے ہیں، خاص طور پر جاری علاقائی کشیدگی کے دوران۔
**سرکاری تصدیق**
سی بی آئی نے اس کیس کو مخصوص ذرائع کی معلومات کی بنیاد پر درج کیا، جس میں فوجی افسر، کانپور کی کمپنی، اور دیگر افراد کے درمیان ساز باز کا الزام لگایا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں مزید چار افراد کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
بھارتی فوج کے حکام نے تفصیلی عوامی بیان جاری نہیں کیا، لیکن یہ گرفتاری مشرقی کمانڈ کے اندر خریداری کے عمل کی جاری داخلی تحقیقات کی عکاسی کرتی ہے۔
**کیس کی اہم تفصیلات**
رشوت کی رقم 50 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ الزامات میں ٹینڈر کے طریقہ کار میں ہیرا پھیری، غیر معیاری ساز و سامان کے نمونوں کی منظوری، اور بڑھائے گئے بلوں کی منظوری شامل ہیں۔ یہ واقعات مارچ-اپریل 2026 کے دوران پیش آئے۔
کانپور کی کمپنی پر الزام ہے کہ اس نے آرڈیننس کور کے ذریعے فوجی اسٹورز کے سپلائی کے معاہدوں میں ان بے قاعدگیوں سے فائدہ اٹھایا۔
بھارت میں دفاعی خریداری میں سالانہ بڑے بجٹ شامل ہیں، اور ملک دنیا کے بڑے ہتھیاروں کے درآمد کنندگان میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ چھوٹے پیمانے پر ٹینڈروں میں ہیرا پھیری بھی عملی تیاری پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور اداروں کے اعتماد کو کمزور کر سکتی ہے۔
**پس منظر**
بھارت نے سالوں کے دوران متعدد ہائی پروفائل دفاعی بدعنوانی کے کیسز کا سامنا کیا ہے، جو کہ گولہ بارود کے معاہدوں سے لے کر طیاروں کی خریداری تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ایسے واقعات نے قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں میں نگرانی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔
موجودہ کیس اس وقت سامنے آیا ہے جب بھارتی فوج اپنے ذخائر کو جدید بنا رہی ہے اور مختلف خود انحصاری کے اقدامات کے تحت خریداری کو بڑھا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اصلاحات کی کوششوں کے باوجود نظامی کمزوریاں برقرار ہیں۔
**ردعمل اور مضمرات**
اس گرفتاری نے بھارتی میڈیا اور دفاعی حلقوں میں ٹینڈروں کے عمل میں سخت احتساب کے مطالبات کو جنم دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ درمیانی سطح پر بدعنوانی فرنٹ لائن یونٹس کو فراہم کردہ سامان کے معیار کو متاثر کر سکتی ہے۔
پاکستان میں، یہ واقعہ…
