اسلام آباد:
امریکہ کی وزارت خارجہ نے بھارت کو Apache ہیلی کاپٹر کی دیکھ بھال کی خدمات اور متعلقہ سامان کی ممکنہ غیر ملکی فوجی فروخت کی منظوری دے دی ہے، جس کی قیمت تقریباً 198.2 ملین ڈالر ہے۔
یہ منظوری 18 مئی کو دی گئی، جو بھارت کے موجودہ AH-64E Apache حملہ ہیلی کاپٹروں کے بیڑے کے لیے طویل مدتی حمایت فراہم کرتی ہے۔ اس کے اہم ٹھیکیدار Boeing اور Lockheed Martin ہوں گے۔
خدمات میں تربیت، مشق، دیکھ بھال، سپیر پارٹس کی فراہمی، تکنیکی مدد، انجینئرنگ سپورٹ، اور لاجسٹکس شامل ہیں۔ بھارت اس وقت 28 Apache ہیلی کاپٹر چلا رہا ہے، جو بنیادی طور پر بھارتی فضائیہ کے ساتھ ہیں، جو پچھلے معاہدوں میں حاصل کیے گئے تھے۔
ایک علیحدہ نوٹیفکیشن میں، امریکہ نے M777A2 Ultra-Light Howitzers کے لیے بھی 230 ملین ڈالر کی دیکھ بھال کی حمایت کی منظوری دی، جس سے دونوں پیکیجز کی مجموعی قیمت 428 ملین ڈالر سے زیادہ ہو گئی۔ BAE Systems اس ہووٹزر کی حمایت کے لیے اہم ٹھیکیدار ہے۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ مجوزہ فروخت بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے اور امریکی افواج کے ساتھ باہمی تعاون کو فروغ دینے میں مدد دے گی۔ اس میں کوئی نئے ہیلی کاپٹر یا ہووٹزر شامل نہیں ہیں؛ یہ پیکیجز موجودہ پلیٹ فارمز کی دیکھ بھال اور عملی تیاری پر توجہ مرکوز کرتی ہیں۔
بھارتی دفاعی حکام نے منظوریوں پر فوری عوامی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ تاہم، ایسی دیکھ بھال کی پیکجز امریکی غیر ملکی فوجی فروخت کے پروگرام کے تحت پہلے کی خریداریوں کے بعد معمول کی بات ہیں۔
**پس منظر** بھارت نے 2015 میں 22 Apache ہیلی کاپٹروں کے لیے ایک معاہدہ کیا، جس کی ترسیل بعد کے سالوں میں مکمل ہوئی۔ اضافی یونٹس بعد میں بھارتی فوج کے لیے حاصل کیے گئے، جس سے کل تعداد 28 ہو گئی۔ Apache پلیٹ فارم جدید حملے اور انٹیلی جنس کی صلاحیتیں فراہم کرتا ہے، جس میں Hellfire میزائل، 30mm چین گنیں، اور جدید سینسر شامل ہیں۔
پہلے حاصل کردہ M777 ہووٹزر ہلکے، ہوا کے ذریعے منتقل کیے جانے والے توپ خانے کی حمایت فراہم کرتے ہیں جو اونچائی پر کارروائیوں کے لیے موزوں ہیں، خاص طور پر حقیقی کنٹرول لائن کے ساتھ۔
یہ منظوریوں کا اعلان جاری علاقائی سیکیورٹی کی حرکیات کے درمیان ہوا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ بھارت کو جدید امریکی ہتھیاروں کی منتقلی جنوبی ایشیائی اسٹریٹجک استحکام پر غیر مستحکم اثر ڈالتی ہے۔
**ردعمل اور علاقائی مضمرات** دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی مسلسل حمایت بھارت کی عملی تیاری کو بڑھاتی ہے۔ یہ پیکجز Apache بیڑے کی دستیابی کی شرح کو باقاعدہ دیکھ بھال، پائلٹ کی تربیت، اور سپیر پارٹس کی دستیابی کے ذریعے یقینی بناتی ہیں۔
مارکیٹ کے مبصرین کا خیال ہے کہ دفاعی اسٹاک پر فوری اثرات کم ہوں گے، کیونکہ یہ دیکھ بھال کی بجائے نئی خریداری کے معاہدے ہیں۔ Boeing اور Lockheed Martin کے حصص نے اعلان کے بعد معمول کی تجارت دیکھی۔
یہ معاہدے Quad کے تحت امریکہ-بھارت کے دفاعی تعلقات کی گہرائی کو اجاگر کرتے ہیں اور وسیع تر انڈو-پیسفک حکمت عملی کے تحت ہیں۔ بھارت حالیہ سالوں میں امریکی دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی کا ایک بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔
**اسٹریٹجک زاویہ** پاکستان کے لیے، یہ ترقیات اپنی فضائی اور توپ خانے کی صلاحیتوں کی جدید کاری کی ضرورت کو مزید تقویت دیتی ہیں۔ پاکستان کو اپنے دفاعی نظام کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ علاقائی سیکیورٹی میں توازن قائم رکھا جا سکے۔
