Follow
WhatsApp

پاکستان کی ⁦BRICS⁩ میں شمولیت کی خواہش، روس کی حمایت

پاکستان کی ⁦BRICS⁩ میں شمولیت کی خواہش، روس کی حمایت

پاکستان ⁦BRICS⁩ کی رکنیت کا خواہاں؛ روس نے حمایت کا اظہار کیا۔

پاکستان کی ⁦BRICS⁩ میں شمولیت کی خواہش، روس کی حمایت

اسلام آباد:

پاکستان نے باقاعدہ طور پر BRICS بلاک میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، جیسا کہ ملک کے نمائندے نے TASS کو بتایا۔ یہ اعلان اسلام آباد کی جانب سے ابھرتی ہوئی عالمی معیشتوں کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی ایک حکمت عملی کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔

روسی نائب وزیراعظم الیکسی اوورچک نے پاکستان کی BRICS کی درخواست کی حمایت کا اظہار کیا ہے، جس سے اس کی قبولیت کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان نے نومبر 2023 میں BRICS کی رکنیت کے لیے اپنی درخواست جمع کرائی، جو کہ اقتصادی شراکت داری کو مضبوط کرنے کی اس کی خواہش کی عکاسی کرتی ہے۔

یکم جنوری 2024 سے BRICS میں پانچ نئے اراکین شامل ہوں گے: مصر، ایران، UAE، سعودی عرب، اور ایتھوپیا۔ آنے والا BRICS سمٹ جو 22 سے 24 اکتوبر 2024 کو قازان میں ہوگا، توسیع کے حوالے سے اہم گفتگو کے لیے فیصلہ کن ہوگا۔

اعلیٰ سطح کی سفارتی مصروفیات جاری ہیں، پاکستان کے سفیر نے BRICS کے رکن ممالک سے حمایت حاصل کرنے کے لیے سرگرم کوششیں کی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی شمولیت سے علاقائی اقتصادی حرکیات میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے، خاص طور پر اس کی جغرافیائی اسٹریٹجک حیثیت کے پیش نظر۔

BRICS، جس میں برازیل، روس، بھارت، چین، اور جنوبی افریقہ شامل ہیں، پاکستان کے لیے اپنے جاری اقتصادی چیلنجز کے درمیان بڑی مواقع فراہم کرتا ہے۔ یہ خواہش پاکستان کی اس پالیسی کے مطابق ہے کہ وہ روایتی مغربی شراکت داروں سے آگے بڑھ کر اقتصادی اتحاد کو متنوع بنائے۔

TASS کے مطابق، بھارت کی جانب سے پاکستان کی شمولیت کے ممکنہ مخالفت کے بارے میں قیاس آرائیاں ہیں، حالانکہ اس کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔ ماہرین اس جغرافیائی کھیل میں روسی اور چینی حمایت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔

پاکستان کا نقطہ نظر سفارتی مصروفیات سے بھرپور ہے، جو BRICS ممالک کے لیے اس کی رکنیت کے باہمی فوائد پر زور دیتا ہے۔ پائیدار اقتصادی ترقی اور تجارتی تعلقات میں توسیع پاکستان کے لیے متوقع فوائد میں شامل ہیں۔

اکتوبر 2024 کے سمٹ کے قریب آنے کے ساتھ، عالمی توجہ BRICS کے مزید انضمام کے فیصلوں پر مرکوز ہوگی۔ ایشیا میں جغرافیائی منظر نامہ بلاک کی تشکیل اور پالیسی کی سمت کے لحاظ سے نمایاں تبدیلیاں دیکھ سکتا ہے۔

پاکستان کا BRICS میں شامل ہونے کا امکان بین الاقوامی اتحادوں کے مستقبل اور اقتصادی طاقت کے توازن میں تبدیلیوں کے بارے میں سوالات اٹھاتا ہے۔ ناظرین یہ دیکھنے کے لیے بے چین ہوں گے کہ یہ ممکنہ رکنیت علاقائی تعاون اور عالمی اقتصادی پالیسی پر کس طرح اثر انداز ہو سکتی ہے۔