اسلام آباد: متحدہ عرب امارات نے ایران پر خفیہ فوجی حملے کیے ہیں، جو خلیج کے علاقے میں پہلے سے ہی کشیدہ صورتحال کو مزید بڑھا رہے ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، UAE نے اپریل 2026 میں ایران کے لاوان جزیرے پر ایک تیل کی ریفائنری کو نشانہ بنایا۔
اس معاملے سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ UAE کی فوجی حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی کی علامت ہے۔
ایرانی فورسز نے فروری 2026 کے آخر سے UAE کے اہداف پر 2,800 سے زائد میزائل اور ڈرون داغے ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
ان ہم آہنگ حملوں کے نتیجے میں UAE میں 221 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہیں، جو علاقائی دشمنیوں کو بڑھا رہے ہیں۔
UAE کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمی اس کی بڑھتی ہوئی اقتصادی مفادات کے تحفظ کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔
جدید مغربی ساختہ جیٹ طیاروں سے لیس، UAE طویل عرصے سے مشرق وسطی کی جغرافیائی سیاست میں ایک اہم کھلاڑی رہا ہے۔
UAE کی وزارت خارجہ نے ایران کی جانب سے دشمنانہ کارروائیوں کے درمیان فوجی جوابی کارروائی کا حق برقرار رکھا ہے۔
تاہم، UAE نے ابھی تک ان حالیہ کارروائیوں کی عوامی طور پر تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ UAE فعال طور پر ایرانی جارحیت کے جواب میں اپنی فوجی صلاحیتوں کا استعمال کر رہا ہے۔
یہ جارحیت فروری 2023 کے آخر میں شروع ہوئی جب ایران نے UAE کے بنیادی ڈھانچے پر حملے شروع کیے۔
ایران کی میزائل اور ڈرون مہم علاقائی حرکیات کی پیچیدگی میں اضافہ کرتی ہے، جس سے خلیجی ریاستوں کو ممکنہ تصادم کی طرف دھکیل رہی ہے۔
غیر تصدیق شدہ ذرائع کے مطابق، واشنگٹن UAE کے اقدامات کو ایرانی خطرات کے خلاف توازن کے طور پر دیکھ سکتا ہے، حالانکہ سرکاری توثیق ابھی تک غیر تصدیق شدہ ہے۔
مبینہ فوجی شدت خلیج کی ریاستوں کی جانب سے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اسٹریٹجک فوجی پوزیشننگ کو اجاگر کرتی ہے۔
یہ سوالات باقی ہیں کہ یہ ترقیات مستقبل میں علاقائی سفارتی تعلقات پر کس طرح اثر انداز ہوں گی۔
عرب جزیرہ نما کے اسٹریٹجک مفادات اب جاری فوجی تصادم کے ساتھ جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔
دیگر ممالک کی ممکنہ شمولیت کے بارے میں قیاس آرائیاں بڑھ رہی ہیں۔
مبصرین صورتحال کی قریب سے نگرانی کر رہے ہیں کیونکہ خلیج میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔
UAE اور ایران کے درمیان جاری تصادم علاقائی استحکام کے لیے مزید سفارتی چیلنجز کی نشاندہی کرتا ہے۔
