اسلام آباد: پاکستان آرمی نے حال ہی میں جدید Z-10ME اٹیک ہیلی کاپٹر کا تجربہ کیا ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر ملٹی موڈ YH MMW ریڈار سسٹم سے لیس ہے۔ یہ ریڈار ہیلی کاپٹر کی آپریشنل صلاحیتوں کو نمایاں طور پر بڑھاتا ہے۔
حالیہ ویڈیو فوٹیج میں ہیلی کاپٹر کے ریڈار کی صلاحیتیں دکھائی گئی ہیں۔ یہ تجربات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ریڈار ہر موسم میں نشانہ بنانے کے لیے مربوط ہے۔ یہ ترقی پاکستان آرمی کی جدید کاری کی کوششوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
آرمی پرانے پلیٹ فارمز کو جدید سسٹمز کے حق میں ختم کر رہی ہے۔ یہ سسٹمز زیادہ خطرناک ماحول کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔ فوجی ذرائع کے مطابق، تجربہ کردہ تشکیل میں نئے دفاعی امدادی آلات شامل ہیں۔
یہ امدادی آلات دفاعی ٹیکنالوجیز کے ایک جامع سیٹ پر مشتمل ہیں۔ یہ اہم علاقوں جیسے کاک پٹ میں تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ گرافین پر مبنی آرمر پینلز اس تحفظ کو مزید بڑھاتے ہیں۔
ہیلی کاپٹر کے ورژن میں بھی جدید دفاعی سسٹمز شامل ہیں۔ ان میں ڈائریکشنل انفرا ریڈ کاؤنٹر میژرز اور میزائل وارننگ سسٹم شامل ہیں۔ ایک ریڈار وارننگ ریسیور اور چاف ڈسپنسر بھی شامل ہیں۔
یہ ٹیکنالوجیز مختلف فضائی خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تقریب کی صدارت کی۔ یہ مظاہرہ مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں ہوا۔
ہیلی کاپٹر 16 HJ-10 اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل تک لے جا سکتا ہے۔ یہ صلاحیت پاکستان کی میدان جنگ میں جوابدہی کو نمایاں طور پر بڑھاتی ہے۔ ہیلی کاپٹر کی شمولیت فروری 2024 کے لیے طے ہے۔
Z-10ME کی نئی صلاحیتیں اسٹریٹیجک ترقی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ یہ اقدام ترقی پذیر خطرات کے درمیان علاقائی بازدارندگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس ہیلی کاپٹر کی شمولیت دفاعی پوزیشنز کو مضبوط کرنے کے لیے کلیدی ہے۔
Z-10ME کے جدید سسٹمز ایک اہم اپ گریڈ کی علامت ہیں۔ پاکستان علاقائی سیکیورٹی کے اقدامات کو بڑھانے پر توجہ دے رہا ہے۔ علاقائی فوجی توازن پر اس کے اثرات ابھی دیکھنے ہیں۔
تجزیہ کار ہیلی کاپٹر کی مستقبل کی تعیناتی پر قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔ اس ترقی کے جغرافیائی اثرات کو قریب سے دیکھا جا رہا ہے۔ اسٹریٹیجک فائدہ برقرار رکھنے کے لیے مزید ترقی کی توقع ہے۔
Z-10ME ہیلی کاپٹروں کی شمولیت پاکستان کی دفاعی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز کرتی ہے۔ ترقی پذیر صلاحیتیں جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ دوسرے ممالک کا ردعمل کیسے ہوگا یہ ایک اہم سوال ہے۔
