مسلم لیگ ن کے رہنما مشاہد حسین سید نے کہا کہ ماضی کی غلطیاں نہ دہرائیجائیں۔ حالات بدل گئے ہیں اور یہ پاکستان 2017 نہیں ہے۔
مشاہد حسین سید نے کہا کہ ایک اور اوپن الیکشن کے بغیر پاکستان کو ملکی یابین الاقوامی سطح پر قبول نہیں کیا جائے گا۔ نواز شریف کی چوتھی مدت وزارتعظمیٰ بورنگ ہوگی۔ اسے ملک کا صدر ہونا چاہیے۔ شہباز شریف بطور وزیراعظم بہترکام کریں گے۔ نواز شریف کو ملک کو متحد کرنا ہوگا۔
پالیسی تبدیل کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ دہشت گردوں کے ساتھ خونریز مقابلےمیں پاک فوج کے دو اہلکار شہید ہو گئے۔ دنیا نیوز کے پروگرام دنیا کامران خانکے ساتھ میں اسلامی لیگ (ن) کے رہنما مشاہد حسین سید نے کہا کہ ترک حکام نےطیب اردگان کو نااہل قرار دیا لیکن ان کی جماعت نے الیکشن جیتا، اس لیے وہواپس آگئے۔
مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان 2017 میں ویسا نہیں تھا جب ذوالفقار بھٹو کوپھانسی دی گئی اور بے نظیر بھٹو اقتدار میں آئیں۔ اب ہائبرڈ سسٹم بھی ہیں۔ نئیحکومت جو بھی ہو اسے حقائق کی بنیاد پر کام کرنا چاہیے۔ پی ٹی آئی کی جڑیںپنجاب اور خیبرپختونخوا میں ہیں۔ دھماکے میں پاکستانی فوج کے دو اہلکار ہلاکہو گئے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف اور غلام اسحاق کی لڑائی کے بعد بے نظیرمضبوط ہوئیں۔ 2017 میں نواز شریف کو “سوفٹ کوپ” کے ذریعے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔نواز شریف مکمل طور پر سسٹم سے باہر ہیں۔
