اسلام آباد: NDTV کے مطابق، جو ایک بھارتی خبر رساں ادارہ ہے اور جس کے دعوے بین الاقوامی ذرائع سے آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئے، امریکہ خلیج کے علاقے میں اپنی فوجی حکمت عملی کا دوبارہ جائزہ لے رہا ہے۔
یہ پیشرفت حالیہ ایرانی میزائل حملوں کے بعد ہوئی ہے جو امریکی فوجی اڈوں پر کیے گئے۔
حکام کچھ فوجی اثاثوں کی منتقلی پر غور کر رہے ہیں تاکہ ان کی حفاظت کو بہتر بنایا جا سکے۔
مشکلات بڑھ رہی ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی تنصیبات کتنا خطرے میں ہیں۔
منتقلی کا مقصد ان اثاثوں کو مزید ایرانی خطرات سے بچانا ہے۔
ایرانی حملوں نے امریکی دفاع میں ممکنہ اسٹریٹجک خلا کو بے نقاب کیا ہے۔
پینٹاگون کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر فورسز کو کم خطرے والے علاقوں میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔
فوجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مزید ایرانی جارحیت کو روک سکتا ہے۔
ایران کی میزائل صلاحیتیں حالیہ برسوں میں نمایاں طور پر ترقی کر چکی ہیں۔
یہ بڑھتی ہوئی صورتحال واشنگٹن کو اپنی تعیناتی کی حکمت عملیوں پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی کشیدگی جاری ہے۔
فوجی جواب میں شدت مزید علاقائی عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔
یہ غیر یقینی صورتحال ان اتحادی خلیجی ریاستوں پر دباؤ ڈال رہی ہے جو امریکی سیکیورٹی پر انحصار کرتی ہیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس کے میزائل تجربات دفاعی اقدامات ہیں۔
امریکہ کا اصرار ہے کہ یہ اقدامات علاقائی امن اور سیکیورٹی کے معاہدوں کی خلاف ورزی ہیں۔
نگران اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ فوجی تعیناتیوں میں ممکنہ تبدیلیاں کیا ہوں گی۔
علاقائی اتحادیوں سے ایسے اسٹریٹجک تبدیلیوں کے اثرات پر مشاورت کی جا رہی ہے۔
تنقید کرنے والے خبردار کرتے ہیں کہ کسی بھی فوجی حکمت عملی میں تبدیلی کو طویل مدتی استحکام کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
امریکہ اور ایران ایک پیچیدہ جغرافیائی محاذ آرائی میں مصروف ہیں۔
فوجی ماہرین متوازن نقطہ نظر کی تجویز دیتے ہیں تاکہ ہتھیاروں کی دوڑ سے بچا جا سکے۔
یہ ایک ترقی پذیر کہانی ہے اور صورتحال کے مطابق مزید اپ ڈیٹس متوقع ہیں۔
