اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ پر کی جانے والی وحشیانہ بمباری اور اس کے نتیجےمیں ہونے والی معصوم شہریوں کی اموات کے بعد اب چین کی جانب سے اہم پیش رفتسامنے آئی ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق چینی وزارت دفاع نے اسرائیل فلسطین تنازعے اورکشیدگی میں حالیہ اضافے کے بعد مشرق وسطیٰ میں اپنے 6 بحری جنگی جہازوں کوتعینات کردیا ہے۔ چین کے اخبار کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ عمان کیبحریہ کے ساتھ مشترکہ مشقوں کے بعد چینی ٹاسک فورس نامعلوم مقام کی جانب روانہہوگئی ہے۔
برطانوی میڈیا کی جانب سے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر مشرق وسطیٰمیں چین کی جانب سے 6 بحری جنگی جہاز تعینات کرنے کو انتہائی غیر معمولی پیشرفت قرار دیا جارہا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ تعینات کیے گئے جہازوں میں ٹائپ 052ڈی گائیڈڈ میزائل ڈیسٹرائر زیبو، فریگیٹ جِنگ زہو اور سپلائی شپ چِنڈاہو بھیشامل ہیں۔
برطانوی میڈیا کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ چینی فوج کی ناردرن تھیئٹر کمانڈمیں موجود جہازوں میں ٹائپ 052 ڈیسٹرائر اورومکی، فریگیٹ لینیی اور سپلائی شپڈونگ پنگ ہو بھی شامل ہیں،جہازوں کی کمانڈ رواں ماہ کے آغاز میں 45 ویںایسکارٹ ٹاسک فورس کے حوالے کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے خبردار کیا تھا کہاگر اسرائیل اور حماس جنگ کے دوران امریکی فوجیوں کو نشانہ بنایا گیا توواشنگٹن جوابی کارروائی کے لیے تیار ہے کیونکہ یہ تنازع مشرق وسطیٰ میں پھیلنےکا امکان ہے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ جواب دینے کے لیےپوری طرح تیار ہے اگر امریکی اہلکار ایسی کسی بھی مسلح کاروائی کا نشانہ بنے۔.
انٹونی بلنکن نے کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیںکہ ہم اپنے لوگوں کا مؤثر طریقے سے دفاع کرسکیں اور اگر ضرورت پڑی تو فیصلہ کنجواب دے سکیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں دو طیارہ بردار جنگیجہازوں سمیت اضافی فوجی تعینات کیے گئے ہیں۔

