Follow
WhatsApp

اسرائیلی دفاعی وزیر کا بھارت میں افغان طالبان سے ملاقات کا دورہ

اسرائیلی دفاعی وزیر کا بھارت میں افغان طالبان سے ملاقات کا دورہ

اسرائیلی وزارت دفاع نے بھارت میں افغان طالبان کے نمائندوں سے ملاقات کی

اسرائیلی دفاعی وزیر کا بھارت میں افغان طالبان سے ملاقات کا دورہ

اسلام آباد:

میجر جنرل (ریٹائرڈ) عامر بارام، اسرائیل کی وزارت دفاع کے ڈائریکٹر جنرل، نئی دہلی پہنچ گئے ہیں اور ان کے ساتھ ایک اعلیٰ سطح کا وفد ہے۔

ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی ٹیم اس دورے کے دوران افغان طالبان کے نمائندوں سے ملاقاتیں کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

یہ مصروفیات اس وقت ہو رہی ہیں جب علاقائی سفارتکاری میں تبدیلیاں آ رہی ہیں۔

یہ دورہ حالیہ امریکی-ایرانی سفارتی نتائج اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کے متوقع ایک روزہ دورہ پاکستان کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔

بارام، جنہوں نے مارچ 2025 میں ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ سنبھالا، اسرائیل کے لیے پالیسی کے نفاذ، بجٹ کے انتظام، اور بین الاقوامی دفاعی تعاون کی نگرانی کرتے ہیں۔

ان کا یہ دورہ بھارت-اسرائیل کے طویل المدتی اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ہے، خاص طور پر دفاعی ٹیکنالوجی اور انسداد دہشت گردی کے شعبے میں۔

بھارتی حکام، جن میں دفاعی سکریٹری راجیش کمار سنگھ اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول شامل ہیں، بارام کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کر چکے ہیں۔

مباحثات میں جدید فوجی ٹیکنالوجیوں کی مشترکہ ترقی، مشترکہ پیداوار، اور بھارت-اسرائیل خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے پر توجہ دی گئی۔

افغان طالبان کے نمائندوں کی شمولیت ایک اہم پیشرفت ہے۔

بھارت نے حالیہ مہینوں میں طالبان انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کو بتدریج بڑھایا ہے، جس میں اعلیٰ سطح کے دورے اور کابل میں اپنے سفارت خانے کو دوبارہ کھولنے کے منصوبے شامل ہیں۔

**سرکاری بیانات** اسرائیلی اور بھارتی دفاعی ذرائع نے اس دورے کو دو طرفہ دفاعی صنعتی تعلقات کو گہرا کرنے کے مقصد سے بیان کیا ہے۔

بارام نے پہلے بھی اسرائیل کی جانب سے بھارت کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کی حمایت کا پیغام دیا تھا۔

پاکستانی سفارتی مبصرین اس تین طرفہ ڈائنامکس کو قریب سے مانیٹر کر رہے ہیں۔

اسلام آباد اپنے افغان استحکام کے موقف پر قائم ہے اور انسداد دہشت گردی اور اقتصادی روابط پر علاقائی کھلاڑیوں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔

**اہم اعداد و شمار** بھارت-اسرائیل دفاعی تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اسرائیل بھارت کے لیے ہتھیاروں کے سب سے بڑے سپلائرز میں سے ایک ہے، جس میں باراک-8 میزائل، ہیروون ڈرونز، اور AI، ڈرونز، اور فضائی دفاع میں مشترکہ منصوبے شامل ہیں۔

دو طرفہ دفاعی تعاون بھارت کے آتم نربھر بھارت اقدام کے تحت خود انحصاری کے اہداف کو ہدف بناتا ہے۔

طالبان وفد کی شمولیت بھارت کی افغانستان میں اقتصادی اور تجارتی مفادات کے حصول کی کوششوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔

حالیہ طالبان دوروں کا مقصد بھارت کے ساتھ سفارتی، تجارتی، اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرنا تھا، جس میں برآمدات اور انسانی ہمدردی کے منصوبوں پر بات چیت کی گئی۔

افغانستان کی اسٹریٹجک حیثیت علاقائی روابط کے منصوبوں پر اثر انداز ہوتی ہے، بشمول وسطی ایشیا کے ممکنہ روابط۔

بھارت اور افغانستان کے درمیان تجارتی حجم میں اتار چڑھاؤ آیا ہے، جبکہ بھارت نے تاریخی طور پر 3 بلین ڈالر سے زائد کی بڑی ترقیاتی امداد فراہم کی ہے۔

**پس منظر** بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاع اور سلامتی میں تعاون کی گہرائی کئی دہائیوں سے جاری ہے۔

حالیہ دوروں نے مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر زور دیا ہے، خاص طور پر دہشت گردی اور علاقائی مسائل کے حوالے سے مشترکہ تشویشات کے درمیان۔