افغانستان میں خوفناک بس حادثہ، درجنوں ہلاک

افغانستان میں خوفناک بس حادثہ، درجنوں ہلاک

منگل کی رات مغربی افغانستان میں ایک ہولناک حادثے میں کم از کم 78 افراد جاںبحق ہوگئے، جن میں 17 بچے بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ اُس وقت پیشآیا جب ایران سے ڈی پورٹ ہونے والے افغان مہاجرین کی ایک بس گُذارا ضلع، صوبہہرات میں ایک ٹرک اور موٹر سائیکل سے ٹکرا گئی اور پھر آگ کی لپیٹ میں آ گئی۔

طالبان کے صوبائی ڈائریکٹر اطلاعات و ثقافت احمداللہ متقی نے تصدیق کی کہ بسمیں سوار تمام افراد اور دیگر گاڑیوں میں موجود دو لوگ بھی جاں بحق ہوئے۔صوبائی ترجمان محمد یوسف سعیدی کے مطابق تمام مسافر ایران–افغانستان سرحدیقصبے اسلام قلعہ سے سوار ہوئے تھے۔

یہ حادثہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران نے افغان مہاجرین کی ملک بدریمیں تیزی لائی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق جنوری سے اب تک 15 لاکھ سے زائدافغانوں کو ایران سے نکالا جا چکا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات سکیورٹیخدشات کے باعث ہیں، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کو غیرمنصفانہ طور پرنشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ مارچتک مزید 8 لاکھ افغانوں کو ملک چھوڑنا ہوگا۔

افغانستان پہلے ہی پاکستان اور ایران سے واپس آنے والے لاکھوں مہاجرین کے بوجھتلے دبا ہوا ہے۔ بین الاقوامی امداد میں کمی، بے روزگاری اور غربت کی بلند شرحنے حالات مزید سنگین بنا دیے ہیں۔ سیو دی چلڈرن افغانستان کے کنٹری ڈائریکٹرارشد ملک کے مطابق، “اتنی بڑی تعداد میں واپسی پہلے سے محدود وسائل پر مزیددباؤ ڈال رہی ہے۔”

افغانستان میں ٹریفک حادثات عام ہیں، جن کی بڑی وجوہات میں خستہ حال سڑکیں،کمزور قوانین اور لاپرواہ ڈرائیونگ شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ بس حادثہحالیہ برسوں کا سب سے جان لیوا واقعہ ہے۔ تحقیقات جاری ہیں جبکہ امدادیتنظیموں نے متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری مدد کی اپیل کی ہے۔