بابر، رضوان کی آمدنی کم — ہر ماہ 20 لاکھ روپے کا نقصان اٹھائینگیں

بابر، رضوان کی آمدنی کم — ہر ماہ 20 لاکھ روپے کا نقصان اٹھائینگیں

*لاہور:* پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے 2025-26 کے لیے نئے سینٹرل کنٹریکٹسجاری کر دیے ہیں جن میں نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، ابکیٹیگری *C* کے کھلاڑیوں کو ماہانہ 25 لاکھ روپے ملیں گے، جو پہلے 20 لاکھروپے تھے۔ اسی طرح کیٹیگری *D* کے کھلاڑیوں کی تنخواہ 12 لاکھ سے بڑھا کر 15لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب، کیٹیگری *B* کے کھلاڑیوں کی تنخواہ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئیاور وہ بدستور تقریباً 45 لاکھ روپے ماہانہ وصول کریں گے۔ یہ سب سے زیادہتنخواہ ہے کیونکہ پی سی بی نے اس سال *کیٹیگری A* کو مکمل طور پر ختم کر دیاہے۔ اس کیٹیگری کے کھلاڑی پہلے ماہانہ 65 لاکھ روپے حاصل کرتے تھے۔

گزشتہ سال پاکستان ٹیم کے اسٹار کھلاڑی *بابر اعظم* اور *محمد رضوان* کیٹیگریA میں شامل تھے، لیکن نئی اسکیم میں اس درجہ بندی کو ختم کرنے کے بعد دونوں کوکیٹیگری B میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس تبدیلی کے باعث ان کی آمدنی میں ماہانہکم از کم 20 لاکھ روپے کی کمی واقع ہوئی ہے۔ پی سی بی کے ذرائع کے مطابق، اسسال کوئی بھی کھلاڑی کیٹیگری A کے معیار پر پورا نہیں اتر سکا، اسی لیے یہدرجہ بندی ختم کر دی گئی۔

پی سی بی کی نئی فہرست میں کل 30 کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ دیا گیا ہے۔ کیٹیگری Bمیں شامل نمایاں کھلاڑیوں میں *ابرار احمد، حارس رؤف، سائم ایوب، سلمان علیآغا، شاداب خان اور شاہین شاہ آفریدی* کے نام شامل ہیں۔ انہیں بابر اعظم اورمحمد رضوان کے ساتھ اس زمرے میں رکھا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، اس پالیسی کا مقصد کارکردگی اور معیار کو بنیاد بنا کرتنخواہوں اور مراعات میں شفافیت لانا ہے۔ تاہم، بابر اعظم اور محمد رضوان جیسےبڑے ناموں کو کیٹیگری A سے باہر کرنا نہ صرف مالی نقصان ہے بلکہ اسے ان کیحیثیت میں ایک بڑی گراوٹ بھی تصور کیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ دیگر کھلاڑیوں کو اضافی تنخواہ دی گئی ہے،لیکن بڑے اسٹارز کو مالی اور عزتی طور پر جھٹکا لگا ہے، جس سے مستقبل میںکھلاڑیوں اور بورڈ کے تعلقات پر اثر پڑ سکتا ہے