، پاکستان: مظفرگڑھ کے ایک اسکول میں عام سا دن تھا جب 35 سالہ استاد نے اپنی کلاس میں لیکچر دینا شروع کیا۔ کچھ ہی لمحوں بعد وہ اچانک سینہ پکڑ کر ڈائس پر گر گئے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ استاد فرش پر گر پڑے اور طلبہ خوف و ہراس میں مدد کے لیے چیخنے لگے۔
انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا مگر ڈاکٹروں نے دل کا دورہ پڑنے کے باعث انہیں مردہ قرار دے دیا۔
اسلام آباد کی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر شائستہ انور کے مطابق پاکستان کے اساتذہ کم تنخواہوں، بھیڑ بھاڑ والی کلاسز اور ادارہ جاتی سہولیات کی کمی کے سبب شدید دباؤ میں کام کرتے ہیں۔ یہ نوکری جسمانی اور ذہنی دباؤ سے بھری ہوئی ہے۔
یہ واقعہ نہ صرف دل دہلا دینے والا ہے بلکہ اس نے پاکستان میں ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے: آخر نوجوانوں میں دل کی بیماریوں کے بڑھتے کیسز کیوں سامنے آ رہے ہیں؟
نوجوان نسل خطرے میں
ماہرین صحت کے مطابق مظفرگڑھ کے استاد کا کیس انوکھا نہیں۔ پاکستان میں نوجوانوں میں دل کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ماہر امراض قلب ڈاکٹر حفیظ اورکزئی کے مطابق ملک میں ہر تین میں سے ایک دل کا مریض 40 سال سے کم عمر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں 16 سے 20 فیصد مہلک ہارٹ اٹیک 45 سال سے کم عمر افراد میں ہوتے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق 18 سے 45 سال کی عمر کے 303 مریضوں میں سے تقریباً 23 فیصد کو بڑی قلبی پیچیدگیوں کا سامنا رہا۔
لاہور میں شائع ایک اور تحقیق کے مطابق 40 سال سے کم عمر مریضوں میں 92 فیصد مرد، 71 فیصد سگریٹ نوش اور 44 فیصد موٹاپے کا شکار تھے۔ تقریباً ایک تہائی کا فیملی ہسٹری بھی دل کی بیماریوں سے جڑا ہوا تھا۔
خطرناک طرزِ زندگی
ماہرین کے نزدیک اس رجحان کی بنیادی وجوہات میں سگریٹ نوشی، غیر متحرک طرز زندگی، غیر صحت بخش غذا، موٹاپا، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابطیس شامل ہیں۔ اکثر نوجوانوں کو اپنی بیماری کا علم ہی نہیں ہوتا اور وہ ’ٹائم بم‘ کی طرح پھٹنے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔
بین الاقوامی تحقیق سے بھی ثابت ہوا ہے کہ مستقل ذہنی دباؤ، بلڈ پریشر اور جسمانی سوزش میں اضافہ کر کے دل کے دورے کے امکانات بڑھاتا ہے۔
غلط فہمیاں اور سسٹم کی ناکامی
سوشل میڈیا پر بعض حلقوں نے اس واقعے کو کووِڈ ویکسین سے جوڑنے کی کوشش کی، مگر ماہرین نے اس بات کی سختی سے تردید کی۔ ان کا کہنا ہے کہ اصل وجوہات ناقص خوراک، تمباکو نوشی، ذہنی دباؤ اور ورزش کی کمی ہیں۔
پاکستان میں صحت کے شعبے پر حکومتی اخراجات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سال 2024–25 کے بجٹ میں صحت پر جی ڈی پی کا صرف 0.9 فیصد مختص کیا گیا، جو عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ شرح (5 فیصد) سے کہیں کم ہے۔ نتیجتاً کروڑوں افراد بنیادی طبی سہولیات اور اسکریننگ سے محروم رہ جاتے ہیں۔
سابق وائس چانسلر خیبر میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر محمد حفیظ اللہ کے مطابق پاکستان علاج پر انحصار کرنے کے بجائے روک تھام پر توجہ نہ دے کر صحت کے بڑے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔
ہولناک اعداد و شمار
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دل کی بیماریاں دنیا بھر میں ہر سال 2 کروڑ سے زائد جانیں لے لیتی ہیں۔ پاکستان میں سالانہ 4 لاکھ اموات دل کے امراض سے ہوتی ہیں، جو ملک کی کل اموات کا 29 فیصد ہے۔
مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ ان میں بڑی تعداد 30 سے 50 سال کے درمیان افراد کی ہے۔
فوری اقدامات کی ضرورت
ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ محض اسپتالوں سے حل نہیں ہوگا بلکہ قومی سطح پر حکمت عملی اپنانا ہوگی، جس میں خوراک پر پابندیاں، انسدادِ تمباکو مہمات، ذہنی صحت کی سہولیات اور اسکول و دفاتر میں لازمی اسکریننگ شامل ہیں۔
عوام کو بھی طرزِ زندگی بدلنے کی ضرورت ہے—ورزش، متوازن خوراک، تمباکو نوشی ترک کرنا اور بلڈ پریشر و شوگر چیک کروانا ضروری ہے۔
مظفرگڑھ کے استاد کی اچانک موت نے پورے ملک کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ اس ویڈیو نے یہ احساس دلایا ہے کہ دل کی بیماریاں صرف بزرگوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کی نوجوان نسل کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔
