آج، 16 اگست 2025 کو اسلام آباد سے کراچی جانے والی ایئر بلو کی پرواز PA-207 میں ایک سنگین واقعہ پیش آیا۔ طیارہ روانگی کے بعد ایک انجن میں اچانک آگ بھڑک اُٹھی، جس سے مسافروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ خوش قسمتی سے، پائلٹ نے فوری طور پر پرواز منسوخ کر کے طیارے کو ایمرجنسی لینڈنگ کے لیے واپس اسلام آباد ایئرپورٹ پر لے آیا۔ تمام 236 مسافر اور عملہ محفوظ رہے، اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ Daily Ausaf+1
طیارے کے انجن سے دھواں اور شعلے نکلتے ہوئے مسافروں نے اپنے موبائل فونز میں قید کر لیے، جنہیں سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا۔ اس واقعے نے ایئر بلو کی پروازوں کی حفاظت کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایئر بلو انتظامیہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور مسافروں کی حفاظت کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔
یہ واقعہ پاکستان کی فضائی تاریخ میں ایک اور سنگین واقعہ ہے، کیونکہ 2010 میں ایئر بلو کی پرواز ED202 بھی مارگلہ ہلز میں حادثے کا شکار ہو گئی تھی، جس میں تمام 152 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ This Day+1
سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ مستقبل میں مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر پاکستانی فضائی صنعت میں حفاظتی معیاروں کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے طیاروں کی باقاعدہ جانچ پڑتال اور پائلٹس کی تربیت میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔
اس واقعے کے بعد ایئر بلو کی پروازوں کی حفاظت کے حوالے سے عوامی تحفظات میں اضافہ ہوا ہے، اور یہ واقعہ فضائی صنعت کے لیے ایک اہم سبق ہے
