پاکستان کرکٹ ٹیم کےسابق چیف سلیکٹرمحمدوسیم نےقومی ٹیم کی کارکردگی پرکہاہےکہقومی کرکٹ ٹیم منیجمنٹ بھی اس سوچ میں ہو گی کہ ہمارے ساتھ ہواکیاہے۔
پروگرام میں سابق چیف سلیکٹرنے قومی ٹیم کے بولنگ کے حوالے سے کہا کہ اس وقتہم سب کی ترجیح شاہین شاہ ہے،اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں نسیم شاہ کی کمیمحسوس ہورہی ہے، ایسے میں ساری ذمہ داری شاہین شاہ آفریدی کےاوپرآگئی ہے۔
انکا مزید کہنا تھا کہ مجھےایسے لگ رہاہےکہ شاہین شاہ آفریدی کے ساتھ کوئیمسئلہ چل رہا ہے، خواہ وہ بائولنگ یااس کی فٹنس میں ہو، ہمیں وہ شاہین کہیںنظرنہیں آرہےجوایشیا کپ میں تھے۔
شاہین شاہ کی چال ڈھال سے لگ رہا ہے کہ وہ کہیں نہ کہیں کمفرٹیبل نہیںہیں،کوئی ایشوان کیساتھ چل رہا ہے۔
ہم نیوز کے پروگرام” پاکستان ٹونائٹ ود سید ثمرعباس” میں گفتگو کرتے ہوئےمحمدوسیم کاکہناتھاکہ ایسا کبھی تاریخ میں نہیں ہوا کہ ہماری ٹیم کی صرف 36 رنز پر8 وکٹیں گری ہوں۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے 36 رنز بنانےکےدوران 8 وکٹیں لوز کر دیں، لیکنپرابلم اس سے بھی پیچھے تھا جب ان کے پاس بیٹنگ کا بہترین وقت تھا تواس وقتہمیں بیٹنگ میں وہ کارکردگی نظر نہیں آئی۔
ہمارے کھلاڑی سلو اسٹرائیک ریٹ سےکھیلتے ہوئے نظرآئےجبکہ اس وقت انہیں زیادہرنز کرنے چاہیے تھے۔ جب انہیں یہ پریشانی لاحق ہوئی کہ رنز کم ہیں تواس دورانقومی ٹیم کے کھلاڑی کارکردگی دکھانے کی بجائے آئوٹ ہونا شروع ہو گئے۔
انکا کہنا تھا کہ کوئی ایسابیٹسمین نہیں تھاجو بائونڈری مارتے ہوئےآئوٹ ہواہو،کوئی سنگل لیتے ہوئے تو کوئی چھوٹے چھوٹے شاٹ کھیلتے ہوئےآئوٹ ہوا۔
ایسا لگ رہا تھا کہ ٹیم دبائو کا شکار ہے، ٹیم ذہنی طور پر تیار تھی ہی نہیںکہ انہوں نے اس پچ پر بیٹنگ کیسےکرنی ہے۔
محمد وسیم کا کہنا تھا کہ قومی کرکٹ ٹیم کا پہلے 25 اوور میں جو بیٹنگ پلانتھا میرے خیال میں ہم میچ ادھر ہی ہار گئے تھے۔
